اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی تجارت پر اثر انداز ہونے والا ایک بڑا اقدام کرتے ہوئے 60 سے زائد تجارتی شراکت دار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر نئی ڈیوٹیاں عائد کر دی ہیں،جس کے بعد عالمی سطح پر معاشی اور سفارتی ردعمل میں تیزی آ گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام جبری مشقت کے خلاف قوانین پر مبینہ طور پر ناکافی عمل درآمد کے تناظر میں کیا گیا ہے،جسے واشنگٹن نے انسانی حقوق کے تحفظ اور امریکی محنت کشوں کے مفادات کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔نئی پالیسی کے تحت بیشتر ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد جبکہ بعض پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے،جس کا اطلاق جمعہ کی رات سے ہو چکا ہے،البتہ راستے میں موجود سامان کو محدود مدت کے لیے رعایت دی گئی ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی سپلائی چین میں شفافیت لانے اور جبری مشقت کے خاتمے کی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاہم ناقدین اسے تجارتی دباو کا نیا ہتھیار قرار دے رہے ہیں۔اس فیصلے کے تحت پاکستان،بھارت،برطانیہ،کینیڈا،ملائیشیا،میکسیکو اور دیگر کئی ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ چین،ویتنام اور دیگر ممالک پر 12.5 فیصد تک ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔
یورپی یونین،جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح پہلے سے موجود ٹیکسوں کے ساتھ ملا کر مقرر کی گئی ہے۔چین کے حوالے سے امریکا نے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق جبری مشقت کے الزامات کو بنیاد بنایا ہے،جس کی بیجنگ مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔امریکی حکام کے مطابق آئندہ مہینوں میں چین پر ٹیرف کی شرح میں مزید اضافہ زیر غور ہے تاہم اسے ایک مخصوص حد تک محدود رکھا جائے گا۔امریکی اقدام پر عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے،یورپی یونین،آسٹریلیا،برازیل اور ناروے سمیت کئی ممالک نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ کینیڈا نے اس معاملے پر امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف عالمی تجارت میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے بلکہ سپلائی چین، قیمتوں اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے تاہم امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ پالیسی طویل المدتی طور پر عالمی تجارتی نظام کو زیادہ منصفانہ اور متوازن بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔