ٹرمپ اور ایردوان کی وائٹ ہاوس ملاقات، تجارت، دفاع اور غزہ جنگ بندی پر اہم پیش رفت
واشنگٹن (ایگزو نیوز ڈیسک) ترک صدر رجب طیب ایردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تجارت،دفاعی تعاون اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،اس ملاقات کو نہ صرف ترکی،امریکہ تعلقات میں نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ غزہ جنگ بندی کے سلسلے میں ایک ممکنہ پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ترک صدر کے اعزاز میں وائٹ ہاوس میں استقبالیہ دیا اور اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی امریکہ کا اہم شراکت دار ہے اور ایردوان ان کے ذاتی دوست ہیں، امریکہ ترکی کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدے کرے گا اور دفاعی شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں ترکی روسی تیل کی خریداری بند کرے تاکہ واشنگٹن کے سٹریٹجک اہداف متاثر نہ ہوں۔غزہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم جنگ بندی معاہدے کے قریب ہیں،حماس سے یرغمالیوں کی رہائی ہماری ترجیح ہے اور یہ معاملہ حل ہونا لازمی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شام کو ترقی کا موقع انہوں نے دیا اور اگر وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات نہ کرتے تو سعودی عرب کبھی شام پر سے پابندیاں نہ ہٹاتا۔امریکی صدر نے اس موقع پر اپنے اقتصادی منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ٹیرف سے حاصل ہونے والی رقم براہِ راست امریکی کسانوں کو فراہم کی جائے گی۔ٹرمپ اور ایردوان کی ملاقات کو غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کے تناظر میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چار برس کے سرد تعلقات کے بعد واشنگٹن اور انقرہ ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکا نے ترک صدر سے فاصلہ رکھا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ کو انقرہ کے سیاسی مخالفین پر کریک ڈاون،صحافیوں کی گرفتاری اور ماسکو پر پابندیاں نہ لگانے کے فیصلے پر شدید تحفظات تھے۔اس کے برعکس ٹرمپ ایردوان کو خطے میں ایک کلیدی اتحادی اور ثالث مانتے ہیں،جو نہ صرف غزہ بلکہ یوکرین جنگ کے حل میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔شام کی صورتحال پر بھی دونوں رہنما ہم آہنگ نظر آئے۔ترکی کی حمایت سے سامنے آنے والے نئے رہنما احمد الشرّا واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس عمل میں انقرہ اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایردوان کی سب سے بڑی ترجیح امریکہ کے ایف-35 پروگرام میں دوبارہ شمولیت ہے۔ترکی کو اس پروگرام سے اس وقت خارج کر دیا گیا تھا جب اس نے روسی ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدا۔امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ روسی نظام کے ذریعے ایف-35 کی حساس معلومات ماسکو تک پہنچ سکتی ہیں تا ہم اب ٹرمپ کی جانب سے اشارے مل رہے ہیں کہ اس معاملے میں دوبارہ پیش رفت ممکن ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹرتھ سوشل” پر حالیہ دنوں میں اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ترکی کے درمیان بوئنگ طیاروں کی بڑی خریداری، ایف-16 کے معاہدے اور ایف-35 پر دوبارہ بات چیت کے امکانات روشن ہیں۔ان کے بقول،اس حوالے سے مثبت نتائج جلد سامنے آ سکتے ہیں۔یہ ایردوان کا 2019 کے بعد وائٹ ہاوس کا پہلا دورہ ہے جسے دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی اور خطے میں امن کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔