انقرہ(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے تہران کے خلاف سخت موقف اختیار کر لیا، جبکہ نیٹو اتحادیوں کو بھی ایران کے معاملے پر مطلوبہ تعاون نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انقرہ میں نیٹو اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کی ہے اور موجودہ صورتحال میں معاہدے کو برقرار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کے بیانات نے خطے کی کشیدہ صورتحال اور عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ چند ہفتے قبل ہونے والے امن معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس معاہدے کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔انہوں نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مذاکراتی عمل پر بھی سوالات اٹھا دیے۔ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو اجلاس کے دوران نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے اور تہران کے ساتھ وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے گزشتہ رات ایران پر ایک بڑا اور طاقتور حملہ کیا،جس کے نتیجے میں ایرانی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے ایران کے حالیہ اقدامات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے تہران کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے بحری جہازوں پر حملے کیے گئے،جن کے جواب میں امریکا نے کارروائی کی۔ تاہم انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ شاید وہ اپنے بہترین مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔نیٹو اجلاس کے دوران امریکی صدر نے اپنے اتحادی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور شکوہ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات میں نیٹو ممالک نے مطلوبہ تعاون نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا نیٹو کی مدد کے لیے سب سے زیادہ مالی اور دفاعی وسائل فراہم کرتا ہے لیکن مشکل وقت میں اتحادی ممالک کا کردار توقعات کے مطابق نہیں رہا۔
صدر ٹرمپ کے اس موقف پر نیٹو سربراہ مارک روٹے نے امریکا کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ہوائی اڈوں سے ہزاروں پروازیں امریکی کارروائیوں کی حمایت میں جاری ہیں اور یورپ امریکی طاقت کے لیے اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کر رہا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بعض اتحادی ممالک نے امریکی اقدامات میں مکمل تعاون نہیں کیا۔انہوں نے برطانیہ اور اٹلی سمیت بعض یورپی ممالک کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی اڈوں کے استعمال سے متعلق انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ٹرمپ نے نیٹو کو امریکا کا ایک مشکل شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اتحاد کے تحفظ اور روس کے مقابلے میں نیٹو کو مضبوط بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔امریکی صدر نے گفتگو کے دوران ماضی کے بعض عالمی فیصلوں پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ اگر وہ اس وقت اقتدار میں ہوتے تو گرین لینڈ اور پاناما کینال سے متعلق فیصلے مختلف ہوتے۔انہوں نے سپین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے خواہاں نہیں۔صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد ایران،امریکا تعلقات،خطے کی سکیورٹی صورتحال اور نیٹو اتحاد کے اندرونی معاملات پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے جبکہ عالمی برادری کی نظریں آئندہ امریکی اقدامات اور سفارتی ردعمل پر مرکوز ہیں۔