Home » ایران سے جنگ ختم،کانگریس کی اجازت غیر ضروری،ٹرمپ کا وار پاورز ایکٹ کو ماننے سے انکار،امریکی صدر کے خط نے واشنگٹن میں نئی بحث چھیڑ دی

ایران سے جنگ ختم،کانگریس کی اجازت غیر ضروری،ٹرمپ کا وار پاورز ایکٹ کو ماننے سے انکار،امریکی صدر کے خط نے واشنگٹن میں نئی بحث چھیڑ دی

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور کانگریس کی اجازت کو غیر ضروری قرار دینے کے موقف نے امریکی دارالحکومت میں نئی آئینی و سیاسی بحث چھیڑ دی ہے،جہاں جنگی اختیارات اور صدر کے یکطرفہ فیصلوں پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریسی قیادت کو ارسال کیے گئے ایک خط میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کا باب بند ہو چکا ہے،اس لیے جنگی کارروائیوں کے تسلسل کے لیے کانگریس سے منظوری لینے کی آئینی مدت اب ان پر لاگو نہیں ہوتی۔ایوانِ نمائندگان کے سپیکر Mike Johnson اور سینیٹ کے سینئر رکن Chuck Grassley کو لکھے گئے خط میں صدر ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ 7 اپریل 2026 سے جاری جنگ بندی کے باعث ایران کے ساتھ کسی قسم کی براہِ راست جھڑپ یا فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا لہٰذا 28 فروری کو شروع ہونے والی دشمنی عملاً ختم ہو چکی ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کو 60 دن مکمل ہو چکے ہیں جبکہ War Powers Resolution کے تحت صدر کو اس مدت کے اندر کانگریس سے باقاعدہ منظوری لینا لازم ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خط میں کہا کہ انہوں نے امریکی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ”آپریشن ایپک فیوری“ کا آغاز کیا اور بطور کمانڈر ان چیف وہ خطے میں لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے فوجی اقدامات جاری رکھیں گے۔وائٹ ہاوس سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وار پاورز ایکٹ کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کسی صدر نے ایسی منظوری نہیں لی،اس لیے وہ بھی اس روایت کو نہیں اپنائیں گے۔صدر کے اس موقف پر اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس اور قانونی ماہرین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔سینیٹ میں اقلیتی رہنما Chuck Schumer نے اسے ”غیر قانونی جنگ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ آئینی تقاضوں سے انحراف کر رہی ہے،جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔اسی طرح سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی کی رکن Jeanne Shaheen نے صدر کے دعوے کو زمینی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں تعینات ہزاروں امریکی فوجی اب بھی خطرات سے دوچار ہیں جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم American Civil Liberties Union نے بھی وائٹ ہاوس کو ارسال کیے گئے خط میں تشویش ظاہر کی ہے کہ صدر ایک ایسی جنگ چلا رہے ہیں جس کی نہ تو کانگریس سے منظوری لی گئی ہے اور نہ ہی اس کے آئینی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ تنظیم کا موقف ہے کہ وار پاورز ریزولوشن میں جنگ بندی کے دوران قانونی مدت کو روکنے یا دوبارہ شروع کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔دوسری جانب وزیر دفاع Pete Hegseth نے سینیٹ میں گواہی دیتے ہوئے صدر کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ جنگ بندی کی صورت میں 60 دن کی مدت موثر طور پر معطل ہو جاتی ہے۔اگرچہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دشمنی کے خاتمے کا دعویٰ کیا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ خطے میں خطرات بدستور موجود ہیں اور پینٹاگون صورتحال کے مطابق اپنی فوجی حکمت عملی اور تعیناتیوں میں تبدیلی کرتا رہے گا،جس سے اس تنازع کے مکمل خاتمے کے حوالے سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز