اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے اور امریکا کے لیے قابل قبول صرف چند مخصوص نکات پر بات ہوگی۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “سوشل ٹروتھ” پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں شیئر کیے جانے والے خطوط، معاہدے اور فہرستوں کے حوالے سے جو قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں وہ غلط ہیں اور ایسے ذرائع بے بنیاد معلومات پھیلا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران معاہدے کی بنیاد وہی چند معقول نکات ہیں جو آسانی سے عملدرآمد کے قابل ہیں اور ان نکات پر بند کمرے میں تفصیلی بات چیت ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی بنیاد بھی انہی نکات پر ہے جبکہ لبنان کا معاملہ مختلف نوعیت کا ہے اور اسے حزب اللہ کی موجودگی کے پیش نظر جنگ بندی میں شامل نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل امریکی صدر نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ قریبی مذاکرات جلد شروع ہوں گے اور امریکا ایران کے ساتھ محصولات اور پابندیوں سمیت دیگر حساس امور پر بات چیت جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے بھی موثر اقدامات کیے جائیں گے،یورینیم افزودگی کو روکا جائے گا اور زیر زمین نیوکلیئر مواد کو امریکا اور ایران مشترکہ طور پر نکال کر ختم کریں گے۔صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ یہ تمام اقدامات انتہائی سخت سیٹلائٹ نگرانی میں ہوں گے اور معاہدے کے 15 نکات میں سے بہت سے پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔انہوں نے بعض میڈیا رپورٹس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غیر مستند ذرائع کی خبریں حقیقت سے بعید ہیں اور ان کا اس معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں کمی اور ایران،امریکا تعلقات کے حوالے سے عالمی توجہ مرکوز ہے، اور صدر ٹرمپ کی وضاحت عالمی سطح پر جنگ بندی کے عمل اور خطے میں استحکام کے حوالے سے واضح موقف پیش کرتی ہے۔