اواشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)عالمی رہنماوں کے ساتھ رابطوں اور حالیہ سفارتی پیش رفت کا سہارا لیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان ابراہیمی معاہدے میں شمولیت اس سال کے اختتام تک متوقع ہے، اور سعودی قیادت اس عمل کی رہنمائی کرے گی۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ غزہ سے متعلقہ بحران اور ایران کے اثرورسوخ میں کمی نے اس راستے کو قابلِ عمل بنایا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ٹائم میگزین کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کے بقول سعودی قیادت “راہنمائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک خطے کے اہم مسائل خاص طور پر غزہ اور ایران کنٹرول میں نہیں آئے تھے، تب تک مکمل نارملائزیشن مشکل تھی، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ ٹرمپ نے انٹرویو میں مزید کہا کہ وہ غزہ پٹی کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اگرچہ انہوں نے اس کا کوئی مخصوص شیڈول نہیں دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے فلسطینی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کوئی واضح یا موثر فلسطینی رہنما سامنے نہیں ہے، اور جو بھی مضبوط لیڈر ابھرے گا اسے سنگین خطرات لاحق رہیں گے۔ مزید برآں، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی رہنما مروان برغوثی کے معاملے پر غور کا اشارہ دیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں جلد فیصلہ کریں گے۔ ان بیانات نے خطے میں متوقع سفارتی پیش رفت کے حوالے سے امید اور تشویش دونوں کو جنم دیا ہے — ایک طرف ممکنہ نارملائزیشن کو تاریخی قدم سمجھا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس کے سیاسی و سکیورٹی مضمرات پر گہرے سوالات موجود ہیں۔ عالمی اور علاقائی حلقوں میں ٹرمپ کے دعووں کا فوری طور پر یکطرفہ قبولِ عامہ نہیں ملا ،سعودی حکام نے ماضی میں فلسطینی مسئلے کے حل اور مخصوص ضمانتوں کی ضرورت پر زور دیا ہے تاہم ٹرمپ کے دعوے نے سفارتی محاذ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عملی کامیابی کے لیے طے شدہ فنی، سکیورٹی اور سیاسی شرائط کی تکمیل ناگزیر ہوگی۔
ٹرمپ کا تہلکہ خیز انکشاف،سعودی عرب اور اسرائیل امن معاہدے کے دہانے پر،ابراہیمی معاہدہ جلد مکمل ہونے کا دعویٰ
24