نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سلیا فلورس کی گرفتاری، درجنوں کیوبائی اور وینزویلا کے فوجی اہلکاروں کی ہلاکت، اور عالمی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی نے دنیا بھر میں شدید تشویش اور تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ خود امریکی صدر نے کارروائی میں ”بہت سے، بہت سے“ کیوبائیوں کی ہلاکت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے شاندار فوجی آپریشن قرار دیا، جب کہ کیوبا اور وینزویلا نے اس حملے کو غیر قانونی، بلاجواز اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سلیا فلورس کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی کارروائی میں بڑی تعداد میں کیوبائی ہلاک ہوئے۔ اس بیان کے بعد کیوبا کے حکام نے بھی با ضابطہ طور پر تصدیق کی کہ وینزویلا میں امریکی حملے اور صدارتی محل میں کیے گئے آپریشن کے دوران 32 کیوبائی فوجی مارے گئے۔کیوبائی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے یہ فوجی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے تحفظ پر مامور تھے اور انہیں وینزویلا کی حکومت کی درخواست پر تعینات کیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ امریکی کارروائی کے وقت یہ تمام افراد وینزویلا کے صدر کے صدارتی محل کے کمپاونڈ میں موجود تھے،جہاں امریکی فورسز نے براہ راست آپریشن کیا۔کیوبا کی وزارت خارجہ نے ان ہلاکتوں کو عالمی قوانین،اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اموات بلاجواز،افسوسناک اور ناقابل قبول ہیں۔کیوبا نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کارروائی کا نوٹس لے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے۔
ادھر وینزویلا کی حکومت نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ 3 جنوری کو ہونے والے امریکی حملے میں وینزویلا کے کم از کم 23 فوجی اہلکار مارے گئے۔اس طرح اس کارروائی میں وینزویلا کے اندر مجموعی طور پر کم از کم 55 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ اطلاعات کے مطابق امریکی فورسز کے صرف ایک یا دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ کارروائی کے دوران ”بہت سے، بہت سے“ کیوبائی مارے گئے تاہم انہوں نے اس فوجی مہم کو شاندار اور کامیاب قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد عام شہری نہیں بلکہ ”فجی“ تھے،جس سے عندیہ دیا گیا کہ یہ افراد صدر مادورو کی سیکیورٹی پر مامور محافظ ہو سکتے ہیں۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارے گئے کیوبائی افراد صدر مادورو کے صدارتی کمپاونڈ میں موجود تھے، اسی لیے یہ ان کی حفاظت پر تعینات گارڈز تھے۔یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی سپیشل فورسز نے وینزویلا میں صدارتی محل میں داخل ہو کر ایک خصوصی آپریشن کیا،جس کے دوران نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈروم سے حراست میں لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق امریکی اہلکار وینزویلا کے صدر اور خاتونِ اوّل کو گھسیٹتے ہوئے بیڈروم سے کمپاونڈ میں لائے،جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سمندر میں موجود ایک امریکی بحری جہاز پر منتقل کیا گیا۔یہ بحری جہاز صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو سخت سیکیورٹی میں امریکہ لے گیا،جہاں دونوں کو اگلے روز نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت میں نکولس مادورو پر منشیات دہشت گردی،کوکین کی سپلائی اور امریکہ کے خلاف سازش سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے تاہم نکولس مادورو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا ہے اور وہ اب بھی وینزویلا کے آئینی صدر ہیں۔ان کی اہلیہ سلیا فلورس نے بھی عدالت میں تمام الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ سیاسی مقدمات ہیں،جن کا اصل مقصد وینزویلا کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔