نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کی کوششوں کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک خفیہ بیک چینل قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے اس مقصد کے لیے عراقی کردستان کے صدر نچیروان بارزانی کو رابطہ کار کے طور پر استعمال کیا،جن کے واشنگٹن اور تہران دونوں میں اعلیٰ سطح کے روابط ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ سفارتی کوشش مئی کے وسط میں شروع کی گئی،جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات آگے بڑھ رہے تھے۔امریکی حکام کو خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ ایران کی سرکاری مذاکراتی ٹیم،جس میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے،پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کی مکمل حمایت کے بغیر کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔
ایگزیوس کے مطابق اسی خدشے کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی سرکاری مذاکرات کاروں کے ساتھ رابطے کے متوازی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت تک براہِ راست پہنچنے کا فیصلہ کیا۔اس مقصد کے لیے نچیروان بارزانی کا انتخاب کیا گیا،جنہیں امریکی اور ایرانی دونوں حلقوں میں روابط رکھنے والی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس خفیہ رابطے میں اس وقت کی امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 10 مئی کو گبارڈ نے بارزانی سے رابطہ کرکے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد واحدی تک رسائی میں مدد طلب کی۔امریکی انتظامیہ کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم جن شرائط پر بات کررہی ہے،آیا پاسدارانِ انقلاب کی قیادت بھی ان شرائط سے متفق ہے یا اس کے اپنے الگ مطالبات موجود ہیں۔یہ خدشہ امریکی حکام کے درمیان اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود تہران کی جانب سے جواب آنے میں تاخیر ہوئی اور واشنگٹن کو محسوس ہوا کہ ایرانی مذاکرات کار مکمل اختیار کے ساتھ بات نہیں کررہے۔نچیروان بارزانی نے امریکی درخواست قبول کرتے ہوئے اپنے ایرانی رابطوں کے ذریعے پیغام پہنچایا۔
ایگزیوس کے مطابق بارزانی نے زور دیا کہ وہ براہِ راست جنرل احمد واحدی سے بات کرنا چاہتے ہیں۔بعد ازاں 14 مئی کو پاسدارانِ انقلاب کا ایک عہدیدار ان کے دفتر پہنچا اور محفوظ رابطے کے لیے انکرپٹڈ فون استعمال کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق بارزانی نے جنرل واحدی سے براہِ راست دریافت کیا کہ آیا وہ ایرانی مذاکرات کاروں کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔جواب میں واحدی نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ہیں اور پاسدارانِ انقلاب بھی مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی حمایت کرتی ہے۔بارزانی نے اس کے بعد امریکی حکام کو ایرانی موقف سے آگاہ کیا۔ایگزیوس کے مطابق اس رابطے کے بعد واشنگٹن نے بیک چینل کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی اور بارزانی کو تجویز دی گئی کہ وہ عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ مذاکرات کاروں کے درمیان ایک خفیہ ملاقات کی میزبانی کریں تاہم مجوزہ ملاقات عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کو عراقی کردستان میں اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک کی ممکنہ موجودگی اور ایرانی حکام کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات لاحق تھے۔اسی سکیورٹی تشویش کے باعث اربیل میں براہِ راست خفیہ ملاقات کے امکان کو آگے نہیں بڑھایا جا سکا۔یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کیلئے پاکستان اور قطر سمیت کئی ممالک سرگرم رہے ہیں۔ Axios کی سابقہ رپورٹنگ کے مطابق قطر بھی پاسدارانِ انقلاب کے بعض اعلیٰ اہلکاروں سے رابطوں کے ذریعے بیک چینل سفارتکاری میں شامل رہا جبکہ پاکستانی ثالثی بھی مذاکراتی عمل میں نمایاں رہی۔امریکی اور ایرانی مذاکرات کے دوران اصل مسئلہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ آبنائے ہرمز،جوہری معاملے اور وسیع تر سکیورٹی انتظامات سمیت متعدد حساس امور بھی رہے۔مئی میں Axios نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے اور آئندہ مذاکرات کے لیے ایک مختصر مفاہمتی یادداشت کے قریب پہنچے تھے تاہم مختلف شرائط پر اختلافات برقرار رہے۔
رپورٹ کے مطابق بعد میں بھی نچیروان بارزانی نے وائٹ ہاوس سے رابطہ برقرار رکھا اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے میں مدد کی پیشکش کی۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ براہِ راست سفارتی چینلز میں تعطل کے باوجود واشنگٹن تہران تک پہنچنے کے لیے غیر رسمی اور بالواسطہ راستوں کو بھی استعمال کرتا رہا۔دوسری جانب خطے میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ Axios کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قطری حکام نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کیا۔مشرقِ وسطیٰ کے امور کے سابق امریکی مشیر بریٹ میک گرک کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی تنازع میں آبنائے ہرمز کی پالیسی ایک اہم رکاوٹ ہے اور مستقبل قریب میں تہران کے موقف میں بڑی تبدیلی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔تازہ انکشاف سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے فیصلہ سازی کے پورے ڈھانچے کو سمجھنے اور بالخصوص پاسدارانِ انقلاب کی حمایت حاصل ہونے کی یقین دہانی کے لیے غیر معمولی سفارتی راستے اختیار کیے۔ تاہم اس خفیہ رابطے کا حتمی سیاسی نتیجہ ایک جامع اور پائیدار معاہدے کی شکل میں سامنے نہیں آسکا جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم اختلافات بدستور برقرار رہے۔