واشنگٹن(ایگزو نیوزڈیسک)امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے ووٹوں سے متعلق نئی پابندیوں پر عمل درآمد کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کردی،جس کے بعد انتظامیہ کی مجوزہ انتخابی پالیسی کو بڑا عدالتی دھچکا لگا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اسے امریکی پوسٹل سروس (USPS) کے ذریعے بھیجے جانے والے میل بیلٹس کے حوالے سے نئے ضوابط پر عمل درآمد کی اجازت دی جائے تاہم سپریم کورٹ نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔عدالت نے اپنے مختصر حکم میں ٹرمپ انتظامیہ کے قانونی موقف پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کے لیے اپنے موقف پر کامیابی حاصل کرنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں انتظامیہ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے نظام میں تجویز کردہ فوری تبدیلیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ نئے ضابطے کے تحت امریکی ریاستوں کو ووٹروں کی فہرست امریکی پوسٹل سروس کو فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ریاستوں کو محکمہ ڈاک کی جانب سے پہلے سے منظور شدہ مخصوص بیلٹ لفافے استعمال کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی تھی۔مجوزہ قواعد کے تحت امریکی پوسٹل سروس کو ایسے میل بیلٹس مسترد کرنے کا اختیار بھی دیا جانا تھا جو نئے مقرر کردہ معیار پر پورا نہ اترتے ہوں یا ان ووٹروں سے متعلق نہ ہوں جن کے نام رجسٹرڈ ووٹرز کی فراہم کردہ فہرست میں شامل ہوں۔
انتخابی حکام اور متعلقہ حلقوں نے ان مجوزہ پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ نئے قواعد کے نفاذ سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے دوران انتظامی پیچیدگیاں اور افراتفری پیدا ہوسکتی ہے۔حکام کے مطابق اس اقدام سے ایسے ووٹرز کے میل بیلٹس مسترد ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوسکتا تھا جو موجودہ انتخابی طریقہ کار کے تحت ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔انتخابی ماہرین کے خدشات کے مطابق اگر مختلف ریاستوں میں ووٹروں کی فہرستوں،بیلٹ لفافوں اور ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی جانچ کے لیے نئے اور سخت تقاضے بیک وقت نافذ کیے جاتے تو انتخابی عمل پر اضافی انتظامی دباو پڑ سکتا تھا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد میل بیلٹس کے حوالے سے مجوزہ نئے ضوابط کے فوری نفاذ کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔یہ فیصلہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے،جس کے باعث ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے طریقہ کار اور انتخابی انتظامات سے متعلق بحث مزید اہم ہوگئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انتخابی عمل سے متعلق مختلف اقدامات کے پس منظر میں سپریم کورٹ کا یہ مختصر حکم ایک اہم عدالتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ انتظامیہ کے قانونی موقف اور مجوزہ ضوابط کے مستقبل کا انحصار آئندہ عدالتی کارروائی اور متعلقہ قانونی معاملات پر ہوگا۔