مالے(ایگزو نیوز ڈیسک)ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سمندری سرحد کے قریب تارکین وطن سے بھری کشتی ڈوبنے کے بعد انسانی المیہ رونما ہوا ہے، جس میں تقریباً 300 افراد سوار تھے، حکام کے مطابق اب تک صرف 10 افراد زندہ بچائے جا سکے ہیں جبکہ ایک خاتون کی لاش سمندر سے برآمد ہوئی ہے اور درجنوں افراد لاپتا ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایڈمرل روملی مصطفیٰ، سربراہ ملائیشین سمندری اتھارٹی، نے بتایا کہ کشتی تین روز قبل میانمار کے علاقے بوٹھی داونگ سے روانہ ہوئی تھی۔ زندہ بچ جانے والوں میں تین میانماری، دو روہنگیا اور ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔ پولیس چیف عزلِی ابو شاہ کے مطابق تمام مسافر ملائیشیا کی جانب جا رہے تھے۔ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ جب کشتی ملائیشیاتھائی لینڈ سرحد کے قریب پہنچی تو سمگلروں نے حکام کی نظروں سے بچنے کے لیے مسافروں کو تین چھوٹی کشتیوں میں منتقل کیا، جس کے نتیجے میں ایک کشتی ڈوب گئی۔ دیگر دو کشتیوں کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی، اور امدادی و تلاش کے کام جاری ہیں۔حکام نے بتایا کہ روہنگیا اور دیگر تارکین وطن اکثر خطرناک سمندری راستے اختیار کرتے ہیں تاکہ میانمار میں شہریت سے محرومی، امتیازی سلوک اور ظلم و جبر سے بچ سکیں۔ یہ حادثہ انسانی بحران اور غیر قانونی تارکین وطن کے خطرناک سفر کی یاد دہانی ہے، جس میں کمزور اور بے سہارا افراد کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
سمندری راستے پر ایک اور افسوسناک انسانی المیہ،ملائیشیا تھائی لینڈ سرحد پر 300 بدقسمت تارکین وطن کی کشتی حادثے کا شکار
2