کرک(ایگزو نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے علاقے صابرآباد غنڈی میرخان خیل میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ نہ صرف ایک پورے خاندان کے خاتمے کا باعث بنا بلکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد،ذہنی دباو اور گھریلو تنازعات کی سنگینی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر گیا،ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد اچانک اس وقت قیامت کا منظر بن گئے جب گھریلو ناچاقی کے باعث ایک شخص نے اندھا دھند فائرنگ کر کے اپنے ہی اہل خانہ کو نشانہ بنا ڈالا۔
ایگزو نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فاروق عرف فاروقائے نے گھریلو جھگڑے کے دوران طیش میں آ کر فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں اس کی بیوی،بیٹی،بہن،دو بھائی اور دونوں بھابھیاں موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئیں۔جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور کمسن بچیاں بھی شامل ہیں،جو اس اندوہناک واقعے کو مزید لرزہ خیز بنا دیتی ہیں۔ریسکیو 1122 کے مطابق مرنے والوں میں 50 سالہ ظفر اللہ،48 سالہ خورشید،40 اور 30 سالہ خواتین،6 سالہ بچی اور صرف تین ماہ کی معصوم شیر خوار بچی بھی شامل ہیں،جن کی زندگی ابھی شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ سفاک گولیوں کی نذر ہو گئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔مقامی افراد،پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں۔تمام لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کرک منتقل کیا گیا جہاں کہرام مچ گیا۔ لواحقین اور اہل علاقہ غم و غصے،صدمے اور بے بسی کا شکار دکھائی دیے۔
ڈی پی او کرک سعود خان کے مطابق ملزم فائرنگ کے بعد پولیس پر بھی فائر کھولے ہوئے تھا تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلووں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ اصل وجوہات اور پس منظر سامنے لایا جا سکے۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ گھریلو تنازعات، ذہنی دباو،غربت،بے روزگاری اور عدم برداشت کس طرح لمحوں میں انسانی جانوں کو نگل لیتے ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ ایسے افراد کے ذہنی مسائل،گھریلو کشیدگی اور تشدد کے رجحان کو وقت پر کیوں نہیں پہچانا جاتا؟اگر بروقت سماجی،نفسیاتی اور خاندانی سطح پر مداخلت کی جاتی تو شاید سات قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔کرک کا یہ سانحہ صرف ایک خاندان کی تباہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لرزہ خیز انتباہ ہے کہ اگر گھروں میں پنپتے تشدد،غصے اور نفسیاتی مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ایسے خونی واقعات بار بار جنم لیتے رہیں گے اور ہر بار کوئی نہ کوئی معصوم اس کی قیمت اپنی جان سے ادا کرتا رہے گا۔