اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)روس کے دارالحکومت ماسکو میں پیر کی صبح ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں روسی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل فانل سارواروف ہلاک ہو گئے، روس کی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق دھماکہ ایک کار کے نیچے نصب بم پھٹنے سے ہوا، جس کے فوری بعد ماہرین کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فانل سارواروف روسی مسلح افواج کے آپریشنل ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے اور انہیں روس کی فوج میں ایک اہم عسکری عہدہ حاصل تھا۔ دھماکے کی تحقیقات میں ایک ممکنہ پہلو کے طور پر یوکرینی انٹیلی جنس سروسز کی ملوثیت کے امکانات زیرِ غور ہیں، تاہم یوکرین کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا۔رپورٹ کے مطابق دھماکہ ماسکو کے ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے قریب کار پارکنگ میں ہوا، اور ابتدائی شواہد کے مطابق دھماکہ زوردار تھا، جس سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ روسی تحقیقاتی ٹیمیں دھماکے کے مقام پر شواہد اکھٹا کر رہی ہیں اور جائے وقوعہ کی مکمل تفتیش کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ یہ واقعہ روسی فوج میں اعلیٰ افسروں پر گزشتہ برسوں کے دوران ہونے والے دھماکوں اور حملوں کی تسلسل میں آتا ہے۔ گزشتہ سال 17 دسمبر کو روسی لیفٹیننٹ جنرل ایگور کیریلوف ہلاک ہوئے تھے، اگرچہ اس کی کبھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ اپریل میں روسی جنرل یاروسلاو موسکالیک بھی ماسکو میں ایک کار بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔تحقیقات کے دوران حکام نے دھماکے کی وجوہات، دھماکے کی نوعیت اور ممکنہ ملوث عناصر کی شناخت پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق، دھماکے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ماسکو کے حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔یہ دھماکہ روسی عسکری قیادت اور ماسکو کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
روس کے اعلیٰ فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل فانل سارواروف کار بم حملے میں قتل
2