Home » رائے ونڈ میں شہباز،نواز،مریم اور ڈار کی خفیہ نوعیت کی ملاقات،نئے صوبوں کی بحث کے بیچ اعلیٰ قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی،پسِ پردہ کیا طے پایا؟ اہم خبر آ گئی

رائے ونڈ میں شہباز،نواز،مریم اور ڈار کی خفیہ نوعیت کی ملاقات،نئے صوبوں کی بحث کے بیچ اعلیٰ قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی،پسِ پردہ کیا طے پایا؟ اہم خبر آ گئی

by ahmedportugal
41 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)رائے ونڈ میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات نے سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف، ن لیگ کے قائد نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے موجودہ سیاسی صورتِ حال، گورننس چیلنجز اور نئے صوبوں سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں مشاورت کی۔ بظاہر معمول کی قرار دی جانے والی اس بیٹھک کی ٹائمنگ اور پس منظر نے اسے غیر معمولی اہمیت دے دی ہے جبکہ اندرونی معاملات اور ممکنہ فیصلوں سے متعلق سرکاری سطح پر خاموشی برقرار ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں قیام کے دوران رائے ونڈ میں اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شریک ہوئے۔ملاقات کو بظاہر معمول کی سیاسی مشاورت قرار دیا گیا تاہم اس کی ٹائمنگ نے اسے غیر معمولی اہمیت دے دی ہے کیونکہ ملک میں گورننس،موجودہ نظام اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال،حکومتی امور اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلامیہ یا اندرونی نکات جاری نہیں کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق مشاورت میں حالیہ سیاسی بیانیے،انتظامی چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی زیر غور آئی۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔انہوں نے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ نظام کو مسائل کے حل میں ناکام قرار دیتے ہوئے انتظامی ری سیٹ اور نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ان کے اس بیان نے سیاسی و عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ وزیر داخلہ کی رائے ذاتی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر گورننس ناگزیر ہے اور ریاستی استحکام کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کا عندیہ دیا ہے۔پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اسے ایک ممکنہ سیاسی منصوبہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ آئین کے مطابق کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔اس کے برعکس ایم کیو ایم پاکستان نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔پارٹی رہنما مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر موجودہ انتظامی ڈھانچہ ناکافی ہو چکا ہے اور موثر حکمرانی کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں۔ان متضاد سیاسی بیانات اور بڑھتی ہوئی بحث کے تناظر میں رائے ونڈ میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطح ملاقات سیاسی مبصرین کے نزدیک غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔اگرچہ باضابطہ طور پر ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم اسے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ پالیسی سمت کے تعین میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز