اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے رہنما اورسابق صوبائی وزیر خیبرپختونخوا اور تیمور سلیم جھگڑا نے پنجاب فرانزک رپورٹ کے حوالے سے اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعے کا مقدمہ پہلے ہی ٹرائل کے دوران خارج ہو چکا ہے اور رپورٹ میں ان کا اور دیگر رہنماوں کے نام بدنیتی اور بے ایمانی کے ساتھ جوڑ دیے گئے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ”ایکس“پر اپنے بیان میں تیمور جھگڑا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نام نہ تو ایف آئی آر نمبر 221 میں شامل ہے اور نہ ہی کسی ضمنی چالان میں جبکہ مرکزی کیس میں انہیں بری کیا جا چکا ہے،استغاثہ کا موقف عدالت میں ریزہ ریزہ کر کے مسترد کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مہم خاص طور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان افراد کے خلاف چلائی جا رہی ہے جنہیں کبھی مقدمے میں نامزد ہی نہیں کیا گیا۔تیمور جھگڑا نے کہا کہ عمران خان نے ساری زندگی پاکستان کے لیے جدوجہد کی ہے،اب ان کے لیے لڑنا ہمارا فرض ہے اور قوم یہ ثابت کرے گی کہ یہ ایک زندہ قوم ہے۔تیمور جھگڑا نے فرانزک رپورٹ میں شامل ویڈیوز کے حوالے سے کہا کہ دو ویڈیوز جنہیں ان کے ریڈیو پاکستان پر موجود ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا،دراصل وہ عوامی ویڈیوز ہیں جو پہلے سے ان کے سوشل میڈیا پر موجود تھیں،یہ ویڈیوز پشاور میں نہیں بلکہ 9 مئی کی اسلام آباد کی ویڈیو ہے اور اس کا ریڈیو پاکستان واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ سکرین شاٹس اور رپورٹ میں موجود مواد جان بوجھ کر لیک کیا گیا،غیر مصدقہ ویڈیوز اور وائرل سکرین شاٹس کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل اور پروپیگنڈا بنایا جا رہا ہے جبکہ حقیقت میں ان کا کیس عدالت میں بری ہو چکا ہے اور کسی قانونی کارروائی میں ان کا نام نہیں ہے۔
تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ پشاور میں 9 اور 10 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مرکزی مقدمہ باقاعدہ ٹرائل کے بعد پہلے ہی خارج ہو چکا ہے،ہمیں باعزت بری کیا گیا اور استغاثہ کا مقدمہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا،اس کیس کی کمزوری کو سمجھنے کے لیے فیصلہ پڑھنا ہی کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان سے متعلق درج ایف آئی آر(نمبر 221)میں نہ میرا نام شامل ہے اور نہ ہی کسی ضمنی چالان میں،یہ کیس ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،میرے علم کے مطابق نہ ہی کامران بنگش،عرفان سلیم اور نہ ہی سہیل آفریدی اس ایف آئی آر میں نامزد ہیں،اگر ڈھائی سال بعد اب اچانک سوشل میڈیا ویڈیوز کو بطور ثبوت پیش کر کے میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے تو یہ کسی سنجیدہ قانونی کارروائی کے بجائے کسی بالی ووڈ فلم کی کہانی زیادہ لگتی ہے۔تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ سکرین شاٹس کے ساتھ کی جانے والی پوسٹس خاصی دلچسپ ہیں کیونکہ ان کا ریڈیو پاکستان کیس سے کوئی تعلق نہیں،میرا خیال ہے کہ پنجاب لیب صرف یہ رائے دے رہی ہے کہ آیا ویڈیوز اصل ہیں یا نہیں؟میری پہلی ویڈیو کا سکرین شاٹ ایسی ویڈیو کا ہے جو نہ پشاور میں بنائی گئی اور نہ ہی 10 مئی کی ہے،جس دن ریڈیو پاکستان کی عمارت کو آگ لگائی گئی،یہ ویڈیو 9 مئی کو اسلام آباد میں عمران خان کی گرفتاری کی مذمت پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ یہ مہم وزیرِاعلیٰ اور دیگر ان افراد کے خلاف چلائی جا رہی ہے جنہیں اس کیس میں نہ کبھی نامزد کیا گیا اور نہ ہی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا،میں اس معلومات کو کسی بھی توہین آمیز یا بدنام کرنے کے مقصد سے استعمال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔
واضح رہے کہ پشاور میں 9 مئی کے واقعات کی ویڈیوز کی تصدیق کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے پشاور پولیس کی درخواست پر تیار کی، جس میں ویڈیوز اور آڈیو ویڑول کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پشاور کے تھانہ شرقی کی جانب سے فراہم کردہ یو ایس بی میں موجود 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم جائزہ لیا گیا۔ متعدد ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے، تاہم چند ویڈیوز میں لوگو اور ٹیکسٹ کے اضافے کی نشاندہی ہوئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور عرفان سلیم کی دو ویڈیوز میں کلپس جوڑنے کے شواہد بھی سامنے آئے۔رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ سہیل آفریدی کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی ہے، اسی طرح عرفان سلیم، کامران بنگش اور تیمور جھگڑا کی پروفائل تصاویر اور ویڈیوز میں موجود افراد کی شناخت بھی تصدیق شدہ قرار دی گئی۔ فرانزک تجزیہ صرف ویڑول مواد تک محدود رکھا گیا اور رپورٹ کی تیاری 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025 کے دوران مکمل ہوئی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پولیس سے رپورٹ طلب کی تھی، جس کے بعد ویڈیوز تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک لیبارٹری بھیجی گئی تھیں۔