ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور بھارتی پراکسیز دہشتگرد کارروائیوں میں براہ راست شریک ہیں۔ دفتر خارجہ کی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی دہشتگردی کو ہوا دے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارتی ہاتھ واضح ہے، اور ان واقعات میں بھارت کی سرپرستی میں چلنے والی تنظیمیں ملوث ہیں۔ پاکستان عالمی سطح پر مسلسل بھارتی ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کر رہا ہے، اور اب بین الاقوامی برادری بھی بھارت کے کردار کو تسلیم کر رہی ہے۔
ترجمان نے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے حالیہ بیان کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی مہم کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ بیان بھارت کے جارحانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ بلاول بھٹو نے کسی رہنما کو بھارت کے حوالے کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی، اس بارے میں وضاحت پیپلز پارٹی ہی دے سکتی ہے۔
شفقت علی خان نے چین کو پاکستان کا قریبی اور قابلِ اعتماد دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کے مسئلے پر پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور دہشتگردی کی سرگرمیوں پر پاکستان دنیا بھر کے فورمز پر آواز بلند کر رہا ہے۔
انہوں نے برکس میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا تاہم کہا کہ چونکہ پاکستان ابھی اس تنظیم کا رکن نہیں، اس لیے اس پر تبصرہ ممکن نہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اسحاق ڈار کی بھارتی رہنماؤں سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم دیگر شریک ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں طے کی جا رہی ہیں۔ سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 25 کروڑ افراد کی بقا کا معاملہ ہے اور پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے، باوجود اس کے کہ اس کی آلودگی میں حصہ دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
انہوں نے افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ یہ معاملہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ پاکستان مسلسل افغان حکام سے رابطے میں ہے تاکہ اس چیلنج سے مشترکہ طور پر نمٹا جا سکے۔