نوشکی(ایگزو نیوز ڈیسک)بلوچستان کے ضلع نوشکی میں انسداد پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی،جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہو گئے جبکہ خواتین پر مشتمل انسداد پولیو ٹیم حملے میں محفوظ رہی۔حملہ آور شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے اور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں انسداد پولیو ٹیم کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں کو دہشت گردوں نے اچانک نشانہ بنایا۔فائرنگ کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں شہید ہو گئے۔شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت محمد یاسر اور عبدالروف کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد شہید اہلکاروں کی لاشیں نوشکی ٹیچنگ ہسپتال منتقل کردی گئیں،جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق فائرنگ کے وقت انسداد پولیو مہم میں شامل خواتین اہلکار موقع پر موجود تھیں تاہم وہ دہشت گردوں کے حملے میں محفوظ رہیں۔حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر کارروائی شروع کردی۔پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی ساتھ لے گئے اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے جبکہ واقعے کے مختلف پہلووں سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔
حکام کے مطابق حملے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے اور مشتبہ راستوں کی نگرانی سمیت دیگر ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔واقعے کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت سے متعلق مزید معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آسکیں گی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نوشکی میں انسداد پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں محمد یاسر اور عبدالروف کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے خدمات انجام دینے والی ٹیم پر حملہ ایک انتہائی سنگین اور ناقابل قبول فعل ہے۔انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں قابل قدر ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب بلوچستان حکومت کے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے بھی انسداد پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو ٹیم کو نشانہ بنانا بلوچستان کے بچوں کے مستقبل کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔بابر یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن اور صوبے کے بچوں کے محفوظ مستقبل کا دشمن ہے،دہشت گرد عناصر بلوچستان میں امن،ترقی اور بیماریوں کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ٹیموں کو نشانہ بنانا بچوں کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کی کوشش ہے اور ایسے حملوں کے باوجود انسداد پولیو مہم جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
حکام کے مطابق نوشکی میں پیش آنے والا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں انسداد پولیو مہم کے دوران ٹیموں کی سکیورٹی کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں۔پولیو ورکرز کی حفاظت کو مہم کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔نوشکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 135 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ضلع نوشکی کی جغرافیائی حیثیت کے باعث یہ خطہ صوبے کے اہم علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے میں نگرانی اور تلاش کا عمل تیز کردیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے حملہ آوروں اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔پولیس حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔