اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے،جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت اور دھمکی آمیز بیان نے سفارتی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے آغاز سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہلکہ خیز اور سخت بیان دیتے ہوئے ایک بار پھر ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے،جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب کوئی موثر آپشن باقی نہیں رہا اور وہ صرف دباو ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے،ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو وقتی طور پر بند کرنے کی باتیں دراصل ”دباو یا بھتہ لینے“کے مترادف ہیں۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی موجودہ صورتحال اس حد تک کمزور ہو چکی ہے کہ اس کا واحد راستہ مذاکرات کی طرف آنا ہے،ایران صرف اس وجہ سے موجود ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے عمل میں شریک ہے۔
اس سے قبل بھی امریکی صدر نے ایک سوشل میڈیا بیان میں مختلف دفاعی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور بعض مبصرین کے مطابق یہ اشارے بھی ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت کی جانب تھے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح وفود کی آمد متوقع ہے،جن میں امریکی نائب صدر اور دیگر اہم شخصیات شامل ہوں گی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں امید ظاہر کی تھی کہ اگر ایران سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو مذاکرات مثبت نتائج دے سکتے ہیں تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی بھی منفی رویے کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کریں گے۔دوسری جانب پاکستان نے مذاکرات میں شریک وفود اور صحافیوں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرتے ہوئے ویزا عمل کو آسان بنایا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ سخت بیانات نے مذاکراتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم امید کی جا رہی ہے کہ سفارتی کوششیں کسی مثبت پیش رفت کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔