تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے تلے ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم ساتھ ہی امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں سامنے آنے والا یہ واضح ا پیغام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران دباو اور مزاحمت کے ساتھ ساتھ سفارتکاری کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے، جس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کشیدگی کے باوجود مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا، تاہم ساتھ ہی امریکا اور اسرائیل پر خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سخت موقف اختیار کر لیا ہے،جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے کہا ہے کہ انصاف،وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں جبکہ انہوں نے امریکی موقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مخالف فریق سیاسی پروپیگنڈا اور گمراہ کن بیانیے کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے، جھوٹے دعووں کے بجائے وعدہ خلافی،دباو اور دھونس کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا حامی رہا ہے تاہم ناکہ بندی،دھمکیوں اور دوہرے معیار پر مبنی پالیسیوں نے سنجیدہ سفارتی عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔انہوں نے عالمی برادری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان واضح تضاد کو بخوبی دیکھ رہی ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی بنیادی وجہ امریکا اور اسرائیل کی مبینہ جارحانہ پالیسیوں کو قرار دیا۔ جنوبی کوریا کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں سے عالمی برادری کو آگاہ کیا جا رہا ہے اور دیگر ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان اقدامات کی کھل کر مذمت کریں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے، اور ان اقدامات کے نتائج کی ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے امکان کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دباو برقرار رکھتے ہوئے ایران کو تجاویز پیش کرنے کے لیے وقت دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرو لین کیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی غیر معینہ مدت کے لیے نہیں بلکہ محدود وقت کے لیے ہے۔یاد رہے کہ ایران کی جانب سے بیک وقت مذاکرات کی آمادگی اور سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران دباو کے باوجود سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، تاہم باہمی اعتماد کی شدید کمی اور متضاد بیانیے مذاکراتی عمل کو مسلسل غیر یقینی بنا رہے ہیں۔