اسلام آباد(ایگزو نیوزڈیسک)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے پمز منتقلی کے بعد ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے پریس کانفرنس میں ملاقات اور طبی معائنے سے متعلق دردناک تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے دورانِ ملاقات اپنی صحت،سر درد،ادویات اور جیل میں طبی شکایات کو مبینہ طور پر نظرانداز کیے جانے کی شکایات کیں،عمران خان بار بار کہتے رہے کہ ان کے ساتھ ظلم ہورہا ہے اور وہ یہ بات عوام تک پہنچائیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان،نورین خان نیازی،نعیم حیدر پنجوتھہ ،تیمور سلیم جھگڑا ،شوکت بسرا اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ انہیں اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو رات کے وقت اڈیالہ جیل پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا،وہ تقریبا رات آٹھ بجے جیل پہنچیں تاہم کئی گھنٹے انتظار کے بعد انہیں الگ الگ گاڑیوں میں منتقل کیا گیا اور ابتدا میں انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ان کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان کو پہلے ایک الگ گاڑی میں لے جایا گیا جبکہ تقریباً دس منٹ بعد انہیں بھی پولیس کی گاڑیوں کے حصار میں ایک مقام پر منتقل کیا گیا،گاڑیوں کے شیشے کالے ہونے کی وجہ سے انہیں راستے میں یہ معلوم نہیں تھا کہ عمران خان کہاں ہیں یا کس گاڑی میں موجود ہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے بقول کئی گھنٹے گزرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ انہیں پمز ہسپتال پہنچایا گیا ہے،وہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل لے جانے کی توقع کررہی تھیں کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں اسی ہسپتال کا ذکر تھا۔انہوں نے بتایا کہ پمز پہنچنے کے بعد انہیں اندھیرے میں مختلف راستوں سے گزار کر او پی ڈی اور بعد ازاں ایک دفتر لے جایا گیا،اس دوران ان کے پاس موبائل فون نہیں تھا اور انہیں بھی مکمل طور پر صورت حال سے آگاہ نہیں کیا جارہا تھا،کچھ دیر بعد انہیں ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں عمران خان موجود تھے،عمران خان نے انہیں دیکھتے ہی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ تقریباً دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہے ہیں،اس موقع پر عمران خان نے ان سے محبت کا اظہار کیا اور دونوں کے درمیان جذباتی کیفیت پیدا ہوئی۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق عمران خان نے ملاقات کے دوران اپنی صحت سے متعلق بعض شکایات بیان کیں،عمران خان نے مسلسل سر درد،ادویات اور جیل میں اپنی طبی شکایات پر مناسب توجہ نہ دیے جانے کا شکوہ کیا۔ڈاکٹر عظمیٰ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان بار بار یہ کہتے رہے کہ ”میرے ساتھ ظلم ہورہا ہے،قوم کو بتاو“عمران خان نے جیل کے ماحول اور طبی سہولیات کے حوالے سے بھی شکایات بیان کیں اور کہا کہ ان کی بات سننے اور ان کی پروا کرنے والا کوئی نہیں،عمران خان ”بار بار مرسی کا نام لے رہے تھے“اور خدشہ ظاہر کر رہے تھے انہیں مرسی کی طرز پر مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا گیا اور ان کا بلڈ پریشر بھی چیک کیا گیا،آنکھ کے علاج کے سلسلے میں انجکشن بھی لگایا گیا جبکہ طبی عملے کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ادویات اور سابقہ طبی علاج کا مکمل ریکارڈ متعلقہ ڈاکٹروں کے پاس ہونا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان سے آنکھوں میں استعمال ہونے والے آئی ڈراپس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں دوا کا نام یاد نہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق انہوں نے موجود ڈاکٹرز سے ادویات اور نسخے سے متعلق مزید معلومات بھی طلب کیں۔ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ انہیں مسلسل یہ بتایا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ پمز میں کیا جارہا ہے اور اس کے بعد انہیں شفا انٹرنیشنل لے جایا جائے گا،وہ عمران خان کو یہ امید دلاتی رہیں کہ مکمل طبی ٹیسٹ شفا انٹرنیشنل میں ہوں گے،جس پر عمران خان بھی مطمئن دکھائی دیے تاہم ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق کافی دیر انتظار کے باوجود انہیں شفا انٹرنیشنل منتقل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں بعد میں اندازہ ہوا کہ عمران خان کو پمز ہی سے واپس اڈیالہ جیل لے جانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ڈاکٹر عظمیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمران خان نے انہیں بتایا کہ انہیں کئی ماہ تک ٹیلی ویژن دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم گزشتہ دو دنوں کے دوران یہ سہولت دی گئی تھی۔انہوں نے بشریٰ بی بی کے حوالے سے بھی عمران خان کی جانب سے تنہائی کا ذکر کرنے کا دعویٰ کیا۔ان کے مطابق عمران خان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بھی ایک پیغام دیا اور مبینہ طور پر کہا کہ اپنی سیاسی موومنٹ تیز کی جائے۔
ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ وہ یہ پیغام متعلقہ قیادت تک پہنچائیں گی۔ڈاکٹر عظمیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان اور انہیں الگ الگ گاڑیوں میں منتقل کیا گیا جبکہ واپسی کے دوران بھی نقل و حرکت کے حوالے سے انہیں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں،ڈیالہ جیل پہنچنے پر ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت دیگر طبی عملے کو مختلف مراحل میں دیکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں اور خاندان کو یہ توقع تھی کہ عمران خان کو عدالتی حکم کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے گا،حتیٰ کہ وہ اسی مقصد سے اپنا سامان بھی ساتھ لے کر آئے تھے،عمران خان مجموعی طور پر تندرست دکھائی دیے اور بنیادی مسئلہ آنکھ سے متعلق باقی رہ جانے والی شکایت کا تھا۔ پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ خان عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر آبدیدہ بھی ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے بھائی سے کئی ماہ بعد ملاقات ان کے لیے جذباتی لمحہ تھا اور عمران خان نے بھی طویل وقفے کے بعد بہن سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی اپنے تجربے کی تفصیلات بیان کیں۔ان کے مطابق انہیں رات تقریباً آٹھ بجے طلب کیا گیا اور ایک گاڑی میں منتقل کردیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس نہ موبائل فون تھا اور نہ گھڑی،اس لیے انہیں راستے اور وقت کے بارے میں درست معلومات حاصل نہیں تھیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا گیا،جہاں وہ عمران خان کے پہنچنے کا انتظار کرتے رہے،وہ بار بار دریافت کرتے رہے کہ خان کب پہنچیں گے تاہم انہیں تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ کچھ وقت بعد انہیں بتایا گیا کہ بظاہر عمران خان وہاں نہیں آرہے،جس کے بعد انہیں اسی گاڑی کے ذریعے واپس لے جایا گیا۔ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوسکی اور واپس پہنچنے پر انہوں نے ڈاکٹر عظمیٰ خان کے بارے میں بھی دریافت کیا۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کے بیانات کے بعد عمران خان کی ہسپتال منتقلی،طبی معائنے اور عدالتی حکم پر عملدرآمد کے طریقہ کار کے حوالے سے مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔خاص طور پر یہ معاملہ زیرِبحث ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت مقررہ نجی ہسپتال کے بجائے عمران خان کو پمز کیوں منتقل کیا گیا۔حکومت کی جانب سے پہلے ہی یہ موقف سامنے آچکا ہے کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے راستے اور اطراف میں مبینہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا،جہاں ماہر امراض چشم،امراض قلب اور فزیشن سمیت ڈاکٹرز کی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا۔حکومتی موقف کے مطابق طبی معائنے کے بعد عمران خان کو طبی طور پر صحت مند قرار دیا گیا اور انہیں صبح سویرے اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر انہیں دوبارہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ڈاکٹر عظمیٰ خان کے تازہ دعووں اور حکومت کے موقف میں موجود فرق کے باعث عمران خان کی صحت اور علاج سے متعلق معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ مکمل میڈیکل ریکارڈ، ڈاکٹروں کی رپورٹس اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی تفصیلات آئندہ عدالتی کارروائی میں کس طرح سامنے آتی ہیں۔