تہران (ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے اسلامک پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا ہے۔
آئی آر جی سی کے سرکاری خبر رساں ادارے ”سپاہ نیوز“ پر جاری بیان کے مطابق حملہ مقامی طور پر تیار کردہ ”خیبرشکن“ بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے کیا گیا، جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر ٹومر بار کی قیام گاہ کو بھی ہدف بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ ”سرپرائز حملے“ تھے اور مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔ایرانی حکام نے وزیراعظم کی حالت یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق کوئی مصدقہ معلومات جاری نہیں کیں۔اسرائیلی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی اور آزاد ذرائع سے بھی حملے کی نوعیت اور اثرات کی توثیق نہیں ہو سکی۔خیبرشکن میزائل کی رونمائی اور آزمائشی لانچ مئی 2023 میں کی گئی تھی۔ ایرانی دفاعی حکام کے مطابق اس کی مار کرنے کی صلاحیت تقریباً دو ہزار کلومیٹر ہے اور یہ ڈیڑھ ہزار کلوگرام تک وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔عسکری ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیلسٹک میزائل خطے میں سٹریٹجک توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں تاہم موجودہ دعووں کی تکنیکی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
دریں اثنا ایران کی جانب سے قبرص میں قائم برطانیہ کے اہم فوجی اڈے پر حملے کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔قبرص کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ایکروتیری پر بغیر پائلٹ ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا،جس سے محدود نوعیت کا نقصان ہوا۔حکومتی ترجمان کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون ہدف تک پہنچا تاہم اس سے صرف جزوی مادی نقصان ہوا اور کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔قبرصی حکام کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔اکروتیری میں قائم برطانوی فوجی اڈہ مشرقی بحیرہروم میں سٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔حالیہ دعووں اور حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق اگر ان دعووں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ پیش رفت تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتی ہے،جس کے اثرات اسرائیل،ایران اور مشرقی بحیرہ روم تک محدود نہیں رہیں گے۔صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے اور مختلف فریقین کے بیانات کے باعث حقائق کی غیر جانبدارانہ تصدیق کا عمل جاری ہے۔