اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)تامل ناڈو کے نو منتخب وزیراعلیٰ اور سابق فلمی سپر سٹار جوزف وجے نے اقتدار سنبھالتے ہی سماجی اصلاحات کی جانب ایک بڑا اور نمایاں قدم اٹھاتے ہوئے ریاست میں شراب کے خلاف سخت پالیسی نافذ کر دی ہے۔حکومتی فیصلے کے تحت 717 سرکاری شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے،جس کا مقصد سماجی برائیوں میں کمی اور عوامی فلاح کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق تامل ناڈو کے نئے وزیراعلیٰ اور سابق فلمی سپر سٹار جوزف وجے نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میں ایک بڑا اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے شراب کے خلاف سخت پالیسی نافذ کر دی ہے۔ انہوں نے ریاست بھر میں 700 سے زائد سرکاری شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے،جس کا مقصد سماجی برائیوں میں کمی اور عوامی فلاح کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔حکومتی ہدایت کے مطابق مندروں، تعلیمی اداروں اور بس اسٹینڈز کے اطراف قائم تمام شراب کی دکانیں بند کی جائیں گی جبکہ ان دکانوں کو دو ہفتوں کے اندر مکمل طور پر ختم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔یہ دکانیں سرکاری مارکیٹنگ کارپوریشن کے تحت چلائی جا رہی تھیں۔
انتظامیہ کے مطابق فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے تاہم اس اقدام کے معاشی اور سماجی اثرات پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔کچھ حلقے اسے مثبت سماجی اصلاح قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض ماہرین اسے ریونیو میں کمی کا باعث بھی قرار دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں جوزف وجے کی جماعت نے واضح برتری حاصل کر کے حکومت بنائی تھی اور اقتدار میں آتے ہی ان کے یہ فیصلے تیزی سے توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔