Home » تامل ناڈو میں نجومی کی تعیناتی پر ہنگامہ،عدالت میں چیلنج کے بعد وجے حکومت کا فوری فیصلہ،ایک دن میں تقرری منسوخ

تامل ناڈو میں نجومی کی تعیناتی پر ہنگامہ،عدالت میں چیلنج کے بعد وجے حکومت کا فوری فیصلہ،ایک دن میں تقرری منسوخ

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

چنائی(ایگزو نیوز ڈیسک)تامل ناڈو میں نجومی پنڈت ویٹریول کی سرکاری تعیناتی کا معاملہ ایک دن میں ہی شدید تنازع کی شکل اختیار کر گیا،جس کے بعد عدالتی چیلنج اور سیاسی ردعمل کے نتیجے میں حکومت کو فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اس تقرری کے خلاف دائر درخواست پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد مدراس ہائی کورٹ میں معاملہ زیر بحث آیا جبکہ بڑھتے ہوئے دباو اور آئینی اصولوں سے متعلق سوالات کے باعث ریاستی حکومت نے حکم نامہ منسوخ کر دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق تامل ناڈو حکومت نے نجومی پنڈت ویٹریول کی بطور سپیشل ڈیوٹی آفیسر تقرری کا فیصلہ جاری ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد واپس لے لیا، جس کے بعد ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ تقرری کا حکم فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق حکومت نے بدھ کے روز ویٹریول کو وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کا سیاسی معاون مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم یہ فیصلہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔اس تقرری کے خلاف مدراس ہائی کورٹ میں درخواست دائر کیے جانے کے بعد معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا،جہاں درخواست گزاروں نے موقف اپنایا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدے پر فائز کرنا آئینی اصولوں اور سائنسی طرزِ فکر کے منافی ہے۔اس فیصلے پر نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ سیاسی میدان میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔حکومتی اتحادی جماعتوں نے اس اقدام پر سوالات اٹھائے جبکہ اپوزیشن نے اسے انتظامی شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔

کانگریس کے رکن پارلیمان سسی کانت سینتھل نے بھی سوشل میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک نجومی کو سرکاری ذمہ داری دینا کس بنیاد پر درست قرار دیا جا سکتا ہے۔پنڈت ویٹریول کو وزیراعلیٰ وجے کی سیاسی جماعت سے قریبی تعلق رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے اور وہ ماضی میں اپنی پیش گوئیوں کے باعث خبروں میں رہ چکے ہیں۔انہیں پارٹی کی ابتدائی کامیابیوں سے بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔اس سے قبل بھی ان کا نام سابق وزیراعلیٰ جے جے للیتا کے دور میں سامنے آیا تھا،جہاں وہ ان کے ذاتی نجومی کے طور پر جانے جاتے تھے تاہم بعد ازاں بعض پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے پر ان کے کردار پر تنقید بھی کی گئی۔بھارت میں سرکاری تقرریوں کے حوالے سے آئینی تقاضے واضح ہیں،جن میں سائنسی سوچ اور میرٹ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے فیصلے اکثر سیاسی اور قانونی تنازعات کو جنم دیتے ہیں اور حالیہ واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز