Home » مذاکرات برائے نام، فیصلے پہلے ہی ہوچکے؟شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کے مارچ اور عمران خان کے معاملے پر بڑا دعویٰ کردیا

مذاکرات برائے نام، فیصلے پہلے ہی ہوچکے؟شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کے مارچ اور عمران خان کے معاملے پر بڑا دعویٰ کردیا

by ahmedportugal
5 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کو برائے نام قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے سے متعلق اہم فیصلے پہلے ہی طے پاچکے ہیں اور دونوں فریق ممکنہ طور پر بات چیت کو کامیاب قرار دے کر موجودہ سیاسی کشیدگی کو وقتی طور پر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق شیر افضل مروت کے مطابق تحریک انصاف کو موجودہ صورتحال میں ایک ایسا راستہ درکار ہے جس کے ذریعے وہ اپنے اعلان کردہ مارچ کو موخر کرتے ہوئے سیاسی طور پر اس اقدام کی وضاحت کرسکے۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نہ مارچ کرنے کی پوزیشن میں ہے اور نہ ہی اس مرحلے پر کسی انتہائی اقدام کی طرف بڑھ سکتی ہے،اس لیے اسے مذاکرات کے ذریعے سیاسی گنجائش ملنے کی توقع ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا فیصلہ کن حصہ پہلے ہی طے کیا جاچکا ہے اور آئندہ دو روز کے دوران دونوں جانب سے بات چیت کو کامیاب قرار دیے جانے کا امکان ہے،اس ممکنہ پیش رفت کے بعد تحریک انصاف مارچ کو مزید موخر کرسکتی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے اور ان سے ملاقاتوں کی بحالی سے متعلق پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔

شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف اس وقت مارچ کی ایسی تیاری نہیں کر رہی جس سے حکومت پر مطلوبہ دباو ڈالا جاسکے،پارٹی ایک مشکل سیاسی صورتحال میں پھنسی ہوئی ہے اور مذاکرات کے ذریعے اسے ایسا راستہ مل سکتا ہے جسے وہ اپنے لیے سیاسی طور پر قابل قبول پیش رفت کے طور پر پیش کرے۔رکن قومی اسمبلی نے تاہم عمران خان کی رہائی کے حوالے سے مذاکراتی عمل کو موثر ذریعہ قرار نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان مذاکرات کے ذریعے باہر نہیں آئیں گے بلکہ ان کی رہائی کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی دباو اور سڑکوں پر لاکھوں افراد کی موجودگی ضروری ہو گی۔شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ ان کے خیال میں مارچ ہونا چاہیے اور عمران خان کی رہائی کے لیے جماعت کو اپنی عوامی قوت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے موقف کے مطابق مارچ موخر کرنے سے قبل عمران خان سے ملاقات ہونی چاہیے تاکہ پارٹی قیادت ان سے براہ راست مشاورت کرسکے، مذاکرات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا کہ چونکہ مارچ کا فیصلہ عمران خان نے خود نہیں کیا تھا،اس لیے مارچ کو موخر کرنے کے معاملے پر ان سے ملاقات ضروری نہیں سمجھی جارہی۔

شیر افضل مروت نے مزید دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی جانب سے مارچ مزید موخر کیا جاسکتا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی اور انہیں علاج کے لیے منتقل کرنے کے حوالے سے پیش رفت کی اطلاع دی جاسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر عمران خان کو علاج کے لیے کس ہسپتال منتقل کیا جائے گا،اس کا نام فوری طور پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے موجودہ مذاکراتی عمل کو ایک ایسے انتظام سے تعبیر کیا جس میں دونوں فریق اپنے اپنے سیاسی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں تاہم ان کے بیان کے مطابق اصل اختلاف عمران خان کی رہائی اور سیاسی مستقبل کے معاملے پر برقرار رہے گا،جسے وہ مذاکرات سے زیادہ عوامی دباو اور سیاسی سرگرمی سے جوڑتے ہیں۔شیر افضل مروت کے یہ دعوے ان کا ذاتی موقف ہیں اور مذاکرات میں شریک دیگر حکومتی یا اپوزیشن نمائندوں کی جانب سے ان تمام نکات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔چنانچہ مارچ موخر کرنے،ملاقاتوں کی بحالی یا عمران خان کو علاج کے لیے منتقل کرنے سے متعلق حتمی صورت حال کا تعین متعلقہ فریقین کے باضابطہ فیصلوں سے ہی ہو گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز