لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)علامہ طاہر محمود اشرفی کو امن، مفاہمت اور بین المذاہب تعاون کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں لندن کے تاریخی لیمبتھ پیلس میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران ”دی ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن 2026“ سے نوازا گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین اور نیشنل پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ طاہر محمود اشرفی کو یہ اعزاز آرچ بشپ آف کینٹربری سارہ ملالی نے لیمبتھ پیلس کے گریٹ ہال میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش کیا۔ ایوارڈ کے ذریعے امن،مفاہمت،اعتدال،بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ،اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ،پرامن بقائے باہمی اور انتہاپسندی،دہشت گردی و فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف طویل عرصے سے جاری خدمات کا اعتراف کیا گیا۔آرچ بشپ آف کینٹربری کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق علامہ طاہر محمود اشرفی ان اہم شخصیات میں شامل تھے جنہیں رواں سال لیمبتھ ایوارڈز کی مختلف کیٹیگریز میں نمایاں خدمات کے اعتراف کے لیے منتخب کیا گیا۔انہیں خصوصی طور پر ”دی ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن“ دیا گیا،جو مفاہمت اور مختلف مذاہب کے درمیان تعاون کے لیے نمایاں خدمات کے اعتراف میں پیش کیا جاتا ہے۔ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ لیمبتھ ایوارڈز کا ایک اہم اعزاز ہے،جس کے ذریعے مذہبی اور سماجی سطح پر مفاہمت،مکالمے اور بین المذاہب تعاون کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیات کی خدمات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
علامہ طاہر محمود اشرفی کو یہ اعزاز ملنا امن،مذہبی سفارت کاری اور بین المذاہب مکالمے کے میدان میں ان کے طویل عرصے سے جاری کردار کے بین الاقوامی اعتراف کے طور پر سامنے آیا ہے۔علامہ طاہر محمود اشرفی گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف مذہبی اور مسلکی برادریوں کے درمیان رابطے،باہمی احترام اور مکالمے کے فروغ کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ان کی سرگرمیوں میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کی حمایت،پرامن بقائے باہمی کی حوصلہ افزائی اور مذہبی انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف آواز اٹھانا شامل رہا ہے۔ان کی جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے ساتھ ساتھ مذہبی شناخت اور دینی وابستگی کو برقرار رکھتے ہوئے مکالمے اور رواداری کی حمایت کو بھی ان کے طویل عوامی و مذہبی کردار کا نمایاں پہلو قرار دیا جاتا ہے۔علامہ طاہر محمود اشرفی اس سے قبل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن کے گلوبل پیس ایوارڈ سے بھی نوازے جا چکے ہیں۔مذکورہ اعزاز بھی انہیں امن،ہم آہنگی اور تعاون کے لیے خدمات کے اعتراف میں دیا گیا تھا تاہم ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ اور او آئی سی گلوبل پیس ایوارڈ دو الگ الگ بین الاقوامی اعزازات ہیں،جو مختلف اداروں کی جانب سے امن،مذہبی ہم آہنگی اور تعاون کے حوالے سے ان کی خدمات کو تسلیم کیے جانے کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ طاہر محمود اشرفی کی مذہبی و سماجی سرگرمیوں کا دائرہ پاکستان سے لے کر مسلم دنیا اور بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔وہ امن،اعتدال،اخوت،رواداری اور مذہبی مکالمے کے فروغ کے لیے مختلف فورمز پر اپنا موقف پیش کرتے رہے ہیں جبکہ مذہبی نفرت،انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف بھی واضح موقف اختیار کرتے رہے ہیں۔لندن میں ملنے والے اس اعزاز کو پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے،کیونکہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی،مذہبی رواداری،مکالمے اور پرامن بقائے باہمی کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک مذہبی شخصیت کی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی مثال ہے۔علامہ طاہر محمود اشرفی مسلم ورلڈ لیگ کی سپریم کونسل کے رکن،انٹرنیشنل تنظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل اور انٹرنیشنل مسلم فورم کے رکن بھی ہیں۔اس کے علاوہ وہ مختلف بین الاقوامی اسلامی اور بین المذاہب تنظیموں کے ساتھ بھی وابستہ ہیں،جہاں مذہبی ہم آہنگی،امن، مکالمے اور باہمی تعاون سے متعلق سرگرمیوں میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔لندن کے تاریخی لیمبتھ پیلس میں منعقدہ تقریب میں ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ کا ملنا اس طویل سفر میں ایک اور اہم بین الاقوامی اعتراف کے طور پر سامنے آیا ہے،جس میں علامہ طاہر محمود اشرفی کی خدمات کو امن،مفاہمت اور بین المذاہب تعاون کے وسیع تر تناظر میں تسلیم کیا گیا۔