Home » حقیقی تبدیلی تقریروں سے نہیں خدمت سے آئے گی،تابش قیوم کا نوجوانوں کو بلدیاتی سیاست میں آگے بڑھنے کا پیغام

حقیقی تبدیلی تقریروں سے نہیں خدمت سے آئے گی،تابش قیوم کا نوجوانوں کو بلدیاتی سیاست میں آگے بڑھنے کا پیغام

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)مسلم یوتھ لیگ پاکستان نے ملک میں سیاسی اتحاد،قومی استحکام اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے تمام سیاسی قیادت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے”میثاقِ نظریہ پاکستان“کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔تنظیم کے صدر تابش قیوم نے کہا ہے کہ اس قومی میثاق کا مرکز نوجوانوں کو بنایا جائے تاکہ انہیں ملک کی تعمیر،سیاسی عمل اور عوامی خدمت میں موثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں مسلم یوتھ لیگ کی مرکزی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تابش قیوم نے کہا کہ پاکستان کو درپیش موجودہ سیاسی،معاشی، فکری اور انتظامی چیلنجز کے باعث قومی سطح پر اتفاقِ رائے اور مشترکہ سمت متعین کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے،مسلسل سیاسی کشیدگی، انتشار،دہشتگردی اور حکمرانی کے فرسودہ طریقہ کار نے ملکی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اتحاد و استحکام پیدا کرنے کے لیے ایسا جامع میثاق ہونا چاہیے جو کسی سیاسی جماعت یا طبقے کے خلاف نہ ہو بلکہ قومی یکجہتی،آئینی بالادستی،ریاستی استحکام اور عوامی فلاح کو بنیاد بنائے، ”میثاقِ نظریہ پاکستان“ کا مقصد سیاسی اختلافات ختم کرنا نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو ایک ذمہ دار اور تعمیری دائرے میں لانا ہونا چاہیے۔

تابش قیوم نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کو باہمی مشاورت کے ذریعے اس قومی معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ ملک میں سیاسی محاذ آرائی کے بجائے تعاون، رواداری اور قومی ترجیحات پر اتفاقِ رائے پیدا ہوسکے،قومی سطح پر ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جس میں سیاسی مخالف کو دشمن سمجھنے کے بجائے ایک مختلف رائے رکھنے والا فریق تصور کیا جائے۔مسلم یوتھ لیگ کے صدر نے نوجوانوں کو مجوزہ میثاق کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے،اس لیے قومی مستقبل کی تشکیل میں انہیں محض ووٹر یا سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے فیصلہ سازی، پالیسی سازی اور عملی خدمت میں حقیقی شراکت دینی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو عصری تقاضوں،جدید تعلیم،ہنر اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور ذمہ دار شہری کردار کے لیے بھی تیار کرنا ہو گا،نوجوانوں کی توانائی کو سیاسی کشمکش کے بجائے تعمیرِ وطن،عوامی خدمت اور مثبت سرگرمیوں کی طرف منتقل کیا جانا چاہیے۔

تابش قیوم نے اسلامی سیاسی تصور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”لا الہ الا اللہ“ کے نظام کا تقاضا ہے کہ نوجوان اسلامی اقدار،نبوی منہج اور موجودہ دنیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی اجتماعی قوت بنیں،سیاسی سرگرمیوں کو محض الزامات اور سطحی بحثوں تک محدود رکھنے کے بجائے اصلاح،تعاون،خدمت اور اعلیٰ اخلاق کو ترجیح دینی چاہیے،موجودہ سیاسی ماحول میں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور نفرت انگیز بیانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے،ملک کو ایسی سیاسی ثقافت کی ضرورت ہے جس میں اختلاف کو برداشت کیا جائے،مخالفین کو سننے کا حوصلہ موجود ہو اور قومی مفاد کو جماعتی مفادات پر فوقیت دی جائے،مجوزہ میثاق کسی ایک سیاسی نظریے یا جماعت کی بالادستی کے لیے نہیں بلکہ قومی اتحاد کے فروغ کا ذریعہ ہونا چاہیے،اس کے نتیجے میں نوجوانوں میں امید پیدا ہو گی اور ریاستی اداروں ،سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ سیاست کو محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے عوامی خدمت کا وسیلہ بنانا ہو گا،سیاسی قیادت اگر عوام کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہو تو ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

تابش قیوم نے نوجوان کارکنوں پر زور دیا کہ وہ صرف سوشل میڈیا اور تقریروں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں اتر کر عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں،اصل تبدیلی نعرے، بیانات اور سیاسی بحث سے نہیں بلکہ مسلسل محنت،تنظیم اور زمینی سطح پر خدمت سے آتی ہے۔انہوں نے خاص طور پر آئندہ بلدیاتی انتخابات کو نوجوانوں کے لیے عملی سیاست میں قدم رکھنے کا اہم موقع قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نئے جذبے اور نئی سوچ کے ساتھ مقامی حکومتوں کے میدان میں آئیں اور اپنے طرزِ عمل سے ثابت کریں کہ سیاست کا مقصد عوام کے مسائل حل کرنا اور ان کی زندگی آسان بنانا ہے۔مسلم یوتھ لیگ کے صدر نے نوجوانوں کو دعوت دی کہ وہ بنیادی سطح پر عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے منظم مہم شروع کریں،اگر نوجوان پانی،صفائی،تعلیم،صحت،روزگار،سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے مسائل کو اپنی ترجیح بنائیں تو وہ معاشرے میں حقیقی اور دیرپا تبدیلی کا آغاز کرسکتے ہیں،بلدیاتی سطح پر سیاسی و سماجی خدمت نوجوانوں کو عوام سے براہِ راست جوڑنے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے،عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سمجھنے اور ان کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرنے سے ہی سیاسی قیادت پر اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے۔

تابش قیوم نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ سیاسی انتشار،دہشتگردی، فکری کمزوری اور فرسودہ نظام حکمرانی سے نکلنے کے لیے ایک جامع قومی وژن درکار ہے،یہ وژن صرف حکومت یا اپوزیشن کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام سیاسی،سماجی اور نوجوان قوتوں کو مل کر اس پر کام کرنا ہو گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر سیاسی قیادت اور نوجوان نسل کو ایک مشترکہ قومی مقصد کے تحت منظم کیا جائے تو ملک میں نہ صرف سیاسی استحکام پیدا ہو سکتا ہے بلکہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا بھی بہتر کی جا سکتی ہے۔مسلم یوتھ لیگ کے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ نوجوانوں کو قومی زندگی میں زیادہ موثر کردار دینے، سیاسی شعور اجاگر کرنے اور عوامی خدمت کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے تنظیمی سطح پر عملی منصوبہ بندی جاری رکھی جائے گی۔تابش قیوم نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ایسے نوجوانوں سے وابستہ ہے جو محض شکایت کرنے کے بجائے حل پیش کریں،صرف سیاسی اختلاف نہ کریں بلکہ قومی مسائل کے حل میں حصہ لیں اور خدمت کو اپنی سیاست کا مرکز بنائیں،حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب سیاست ایوانوں سے نکل کر گلی،محلے اور عوام کی دہلیز تک پہنچے گی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز