Home » سڈنی کا بانڈی بیچ خون سے لال،یہودی تہوار اور جشن کی تقریب پر دہشت گردی،12 افراد ہلاک درجنوں زخمی،اسرائیلی صدر نے یہودیوں پر ظالمانہ حملہ قرار دے دیا

سڈنی کا بانڈی بیچ خون سے لال،یہودی تہوار اور جشن کی تقریب پر دہشت گردی،12 افراد ہلاک درجنوں زخمی،اسرائیلی صدر نے یہودیوں پر ظالمانہ حملہ قرار دے دیا

by ahmedportugal
11 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)آسٹریلیا کے شہر سڈنی کا معروف ساحل بانڈی بیچ اس وقت قیامت کا منظر پیش کرنے لگا جب یہودیوں کے مذہبی تہوار کی تقریب کے دوران اچانک اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئی۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی اور ساحل انسانی خون سے سرخ ہو گیا۔ فائرنگ کے فوراً بعد پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر مقامی آبادی کو بانڈی بیچ سے دور رہنے کی ہدایت جاری کر دی جبکہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے واقعے کو یہودیوں پر “انتہائی ظالمانہ حملہ” قرار دیتے ہوئے زخمیوں کی صحتیابی اور ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا کی۔
ایگزو نیوز کے مطابق اتوار کی شام آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے معروف ساحلی علاقے بانڈی بیچ میں ہونے والے ایک ہولناک دہشت گرد حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے،جن میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے جبکہ 29 افراد زخمی ہوئے،جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنہیں گولیاں لگی ہیں۔ یہ واقعہ شام تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر کیمبل پریڈ کے قریب پیش آیا،جس کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے با ضابطہ طور پر دہشت گردی کا واقعہ جبکہ اسرائیلی صدر نے یہودیوں پر ظالمانہ حملہ قرار دے دیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں ملوث دو میں سے ایک حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا حملہ آور پولیس کی تحویل میں ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ایک اعلیٰ قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے حملہ آور کا نام نوید اکرم تھا،جو سڈنی کے جنوب مغربی علاقے بونی ریگ کا رہائشی تھا۔پولیس نے اس کے بونی ریگ میں واقع گھر پر چھاپہ مار کارروائی شروع کر دی ہے،جہاں مزید شواہد کی تلاش جاری ہے۔

واقعے کی سنگینی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب جائے وقوعہ سے ایک مشتبہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی)برآمد ہوا،جسے ناکارہ بنانے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ طلب کر لیا گیا۔پولیس نے رات 9 بجے سے قبل جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن تا حال جاری ہے اور ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔سوشل میڈیا پر جاری ابتدائی پیغامات میں پولیس نے اسے ”ڈیولپنگ انسیڈنٹ“قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر علاقے سے دور رہیں اور محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔نیو ساوتھ ویلز ایمبولینس سروس کے مطابق جائے وقوعہ پر متعدد زخمیوں کو طبی امداد دی گئی،جن میں سے چھ افراد کو سینٹ ونسنٹ ہسپتال ،تین کو رائل پرنس الفریڈ اور دو کو سینٹ جارج ہسپتال منتقل کیا گیا۔ساحل کے گھاس والے حصے سے سامنے آنے والی مناظر انتہائی دل دہلا دینے والے تھے،جہاں کئی افراد خون میں لت پت زمین پر پڑے تھے اور پیرامیڈکس جان بچانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔لوگ بدحواسی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگتے دکھائی دیے،کچھ کے سروں پر پٹیاں بندھی تھیں جبکہ کئی افراد خون میں ڈوبے ہوئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے بعد پورے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔رینڈوک کی رہائشی اور سابق صحافی الزبتھ میلی نے بتایا کہ وہ آئس برگس ریسٹورنٹ میں ڈنر کر رہی تھیں کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں،پہلے ہمیں لگا کہ آتش بازی ہو رہی ہے لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ یہ اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے،لوگ ساحل کی طرف سے دوڑتے ہوئے آ رہے تھے،ہر طرف دہشت پھیل گئی تھی،انہیں شوٹر نظر نہیں آیا لیکن آوازیں بانڈی پویلین کے قریب سے آ رہی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نارتھ بانڈی میں تقریباً 20 منٹ تک فائر کی آوازیں سنیں اور دیکھا کہ لوگ نیم برہنہ حالت میں ہی ساحل سے بھاگ رہے تھے،خوفزدہ خواتین اور بچے قریبی گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر پناہ مانگ رہے تھے،کچھ یہودی خواتین اور بچے شدید خوف میں مبتلا تھے،ہم نے انہیں گھر کے اوپر والے کمرے میں پناہ دی یہاں تک کہ ان کے اہل خانہ انہیں لینے آ گئے۔واضح رہے کہ اسی مقام کے قریب بچوں کے کھیل کے میدان کے پاس ”چانوکا بائی دی سی“ کے نام سے ایک یہودی کمیونٹی کی تقریب شام 5 بجے سے جاری تھی،جس کے باعث واقعے کے ممکنہ مذہبی یا نسلی پہلووں پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے تا ہم حکام کا کہنا ہے کہ تا حال حملے کے ہدف یا محرکات کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں۔

نیو ساوتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منس نے واقعے کو ”انتہائی دل خراش“ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بھی حملے کو ”چونکا دینے والا اور افسوسناک“ قرار دیا اور کہا کہ پولیس اور ایمرجنسی ادارے جانیں بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ادھر یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے واقعے کو یہودیوں پر ”انتہائی ظالمانہ حملہ“ قرار دیا اور زخمیوں کی صحتیابی اور ہلاک افراد کے لیے دعا کی۔حملے کے بعد بانڈی بیچ اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے جبکہ عوام میں شدید خوف اور بے یقینی کی فضا برقرار ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور جیسے ہی مزید معلومات سامنے آئیں گی، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز