اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اتوار کی شام سڈنی کے معروف ساحلی علاقے بانڈی بیچ پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کے بعد ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ سامنے آ گیا ہے،ابتدائی تفتیش کے مطابق فائرنگ میں ملوث مرکزی شوٹر کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہوئی ہے،جسے پاکستانی نژاد بتایا جا رہا ہے،اس کے ساتھ ہی دوسرا مارا جانے والا حملہ آور کون تھا؟ اس حوالے سے بھی ایک تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آیا ہے،جس نے آسٹریلوی حکام میڈیا اور عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور دوسرے حملہ آور کی شناخت جان بوجھ کر خفیہ رکھی گئی ہے،جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اتوار کی شام سڈنی کے بانڈی بیچ پر پیش آنے والے ہولناک واقعے سے متعلق سامنے آنے والی ایک طویل ویڈیو نے حملے کی نوعیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کو اب تک کی سب سے طویل فوٹیج قرار دیا جا رہا ہے،جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں حملہ آوروں نے پولیس کے ساتھ براہِ راست فائرنگ کا تبادلہ کیا اور کسی نے بھی ہتھیار ڈالنے کی کوشش نہیں کی،دونوں مسلح افراد نے پولیس کے سامنے مزاحمت کی،ایک حملہ آور فائرنگ کے دوران موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ چند منٹ بعد دوسرا بھی گولیوں کا نشانہ بنا۔ اس طرح یہ واقعہ ایک مکمل فائرنگ کے مقابلے کی صورت اختیار کر گیا،نہ کہ گرفتاری کا،پولیس نے ایک تیسرے شخص کو بھی حراست میں لیا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک عام راہگیر تھا اور بعد ازاں یہ کارروائی غلط فہمی قرار دی گئی۔
ان دعووں نے پولیس کے ابتدائی موقف کو چیلنج کر دیا ہے،جس میں کہا گیا تھا کہ ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں حراست میں ہے۔غیر سرکاری معلومات کے مطابق دونوں افراد مسلح تصادم کے دوران ناکارہ بنائے گئے۔قانون نافذ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے حملہ آور کی شناخت نیوید اکرم کے نام سے ہوئی ہے،جسے پاکستانی نژاد قرار دیا جا رہا ہے تا ہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات تا حال جاری نہیں کی گئیں۔ دوسرے حملہ آور کی شناخت بھی ابھی تک منظرِ عام پر نہیں لائی گئی۔حملہ ایک یہودی مذہبی تقریب کے دوران کیا گیا،جہاں حنوکہ کی شمعیں روشن کی جا رہی تھیں۔ ویڈیو اور متعلقہ بیانات میں ایک یہودی مذہبی رہنما،ربی ایلی شلانگر کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے جبکہ حملے کے دوران درجنوں فائر کیے گئے اور مبینہ طور پر حملہ آوروں کی گاڑی سے پائپ بم بھی برآمد ہوا۔اس واقعے میں 29 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔