سڈنی(ایگزو نیوز ڈیسک)سڈنی کے معروف ساحلی علاقے بانڈی بیچ پر اتوار کی شام یہودیوں کے تہوار حنوکہ کی تقریب اس وقت دہشت گردی کا نشانہ بن گئی جب دو مسلح حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ یہ تقریب چاباد آف بانڈی کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی تھی۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق اس یہود دشمن حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے جبکہ 29 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،دوسری جانب شوٹر نوید اکرم افغان نژاد آسٹریلوی نکلا،بھارتی پروپیگنڈہ بے نقاب ہو گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزی اور نیو ساوتھ ویلز کے پولیس کمشنر مال لینن نے واقعے کو یہودی برادری کے خلاف ایک دانستہ اور منظم دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا، بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کیا گیا اور سرچ و کلیئرنس آپریشن طویل وقت تک جاری رہا۔حکام نے ایک حملہ آور کی شناخت نوید اکرم کے طور پر کی ہے، جو مغربی سڈنی کے علاقے بونی ریگ کا 24 سالہ رہائشی تھا۔ معتبر ذرائع، جن میں اے بی سی نیوز، سڈنی مارننگ ہیرالڈ اور ڈیلی میل آسٹریلیا شامل ہیں، کے مطابق نوید اکرم سڈنی میں پیدا ہوا، وہیں پلا بڑھا، مقامی سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور پیشے کے اعتبار سے ایک برک لیئر (اینٹوں کا کام کرنے والا مزدور) تھا۔ذرائع کے مطابق نوید اکرم کا تعلق ایک افغان نژاد خاندان سے تھا اور وہ آسٹریلوی رہائشی تھا۔ سوشل میڈیا پر بھارت سے منسلک بعض اکاونٹس کی جانب سے اسے پاکستانی قرار دینے کی کوشش کی گئی، تاہم فیکٹ چیک رپورٹس کے مطابق یہ دعوے جھوٹے، من گھڑت اور منظم پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ آسٹریلوی میڈیا اور مقامی ذرائع نے ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حملہ آور کا پاکستان سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔دوسری جانب اس ہولناک واقعے کے دوران ایک مسلمان شہری کی جرات مندانہ کارروائی نے کئی جانیں بچا لیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 43 سالہ فروٹ شاپ کے مالک احمد ال احمد نے جان کی پروا کیے بغیر ایک مسلح شخص پر جھپٹ کر اس سے رائفل چھین لی۔ سفید قمیص پہنے احمد ال احمد نے حملہ آور کو پیچھے سے قابو میں کیا، اسلحہ اس کے ہاتھ سے چھینا اور مزید نقصان ہونے سے روک دیا۔نیو ساوتھ ویلز کے وزیرِاعلیٰ کرس منس نے احمد ال احمد کو “حقیقی ہیرو” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری کے باعث “آج رات بہت سے لوگ زندہ ہیں”۔ وزیراعظم انتھونی البانیزی نے بھی ان آسٹریلوی شہریوں کی تعریف کی جو خطرے کی طرف بڑھے اور دوسروں کی جانیں بچائیں۔
ادھر سڈنی کے مغربی مضافاتی علاقوں سے، جو بانڈی بیچ سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں پولیس کی بھاری نفری دیکھی جا سکتی ہے۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق مسلح پولیس نے بونی ریگ میں ایک رہائشی مکان کو گھیرے میں لے لیا، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ بانڈی بیچ فائرنگ کے ایک ملزم کا گھر ہے۔ تاہم اس کارروائی کی پولیس کی جانب سے سرکاری طور پر تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔پولیس حکام کے مطابق واقعے سے متعلق تمام پہلووں کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا اس حملے میں مزید افراد بھی ملوث تھے یا نہیں۔ آسٹریلیا میں اس واقعے کے بعد سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے اور یہودی عبادت گاہوں اور اجتماعات کے گرد حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
سڈنی میں یہودی تہوار پر دہشت گردی،شوٹر نوید اکرم افغان نژاد آسٹریلوی نکلا،بھارتی پروپیگنڈہ بے نقاب
27