Home » سڈنی حملہ، بھارتی میڈیا کے اعتراف نے پاکستان پر الزام تراشی کا بھانڈا پھوڑ دیا،مرکزی ملزم نوید اکرم ہندوستانی شہری نکلا

سڈنی حملہ، بھارتی میڈیا کے اعتراف نے پاکستان پر الزام تراشی کا بھانڈا پھوڑ دیا،مرکزی ملزم نوید اکرم ہندوستانی شہری نکلا

by ahmedportugal
83 views
A+A-
Reset

نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)بھارتی خبر رساں اداروں کی اپنی رپورٹس نے سڈنی کے بونڈائی بیچ میں پیش آنے والے ہولناک حملے سے متعلق سچائی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے، جہاں بھارتی میڈیا کی جانب سے حسبِ روایت پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوششیں بری طرح ناکام ہو گئیں۔ معتبر بھارتی خبر رساں ادارے ’دی پرنٹ‘ اور تلنگانہ پولیس کی تصدیقی معلومات کے مطابق اس حملے کا مرکزی ملزم ساجد اکرم نہ صرف بھارتی نڑاد تھا بلکہ اس کا تعلق بھارت کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے ثابت ہو چکا ہے جبکہ پاکستان سے اس کا کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق ہندوستان کے اہم میڈیا اداروں نے تصدیق کر دی ہے کہ سڈنی حملے کا موقع پر مارے جانے والا مرکزی ملزم ساجد اکرم نومبر 1998 میں طالب علم ویزا پر بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا تھا۔اس نے حیدرآباد سے بیچلر آف کامرس کی تعلیم مکمل کی اور بعد ازاں روزگار کی تلاش میں آسٹریلیا میں مستقل قیام اختیار کر لیا۔ساجد اکرم تقریباً 27 برس تک آسٹریلیا میں مقیم رہا،اسی دوران اس کے دو بچے،ایک بیٹا اور ایک بیٹی آسٹریلیا میں پیدا ہوئے اور پیدائشی طور پر آسٹریلوی شہری ہیں۔اطلاعات کے مطابق اسے اپنے بیٹے کی پیدائش کے وقت آسٹریلوی شہریت بھی حاصل ہو گئی تھی تا ہم اس کے باوجود اس نے بھارتی شہریت ترک نہیں کی اور بھارتی پاسپورٹ بدستور اپنے پاس رکھا۔

بھارتی پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ساجد اکرم گزشتہ برسوں میں کم از کم چھ مرتبہ بھارت کا سفر کر چکا تھا جبکہ اس کا آخری دورہ 2022 میں حیدرآباد کا تھا۔اس کے باوجود اس کے اپنے خاندان سے روابط انتہائی محدود تھے اور خاندانی تنازعات کے باعث رشتہ داروں سے تعلقات برسوں قبل ہی منقطع ہو چکے تھے،یہاں تک کہ وہ 2017 میں اپنے والد کے انتقال پر آخری رسومات میں شرکت کے لیے بھی بھارت نہیں آیا،جس سے اس کی خاندانی لاتعلقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب تلنگانہ پولیس کے سینئر حکام نے واضح کیا ہے کہ ساجد اکرم کی مبینہ انتہا پسندانہ سوچ یا سرگرمیوں کا بھارت میں کسی نظریاتی یا عملی نیٹ ورک سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔بھارتی حکام کے مطابق آسٹریلوی حکام نے واقعے کے بعد ملزم کے پس منظر اور سفری تفصیلات کے حصول کے لیے بھارت سے رابطہ کیا، جس پر بھارتی اداروں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ساجد اکرم کی سرگرمیوں کی اصل نوعیت اور انتہا پسندی سے جڑے محرکات کی تحقیقات آسٹریلیا میں اس کے قیام کے تناظر میں کی جا رہی ہیں۔

آسٹریلوی حکام کے مطابق بونڈائی بیچ پر ہونے والے اس حملے میں ساجد اکرم کے ساتھ اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم بھی ملوث تھا۔فائرنگ کے دوران ساجد اکرم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ نوید اکرم زخمی حالت میں گرفتار کر کے ہسپتال منتقل کیا گیا،جہاں وہ پولیس کی سخت نگرانی میں زیر علاج ہے۔وفاقی آسٹریلوی پولیس نے اس واقعے کو داعش سے متاثر دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔تحقیقات کے دوران حملہ آوروں کی جانب سے استعمال کی گئی گاڑی جو نوید اکرم کے نام پر رجسٹرڈ تھی، تحویل میں لے لی گئی ہے،گاڑی سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور داعش سے منسوب دو جھنڈے بھی برآمد ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔حکام کے مطابق حملہ آوروں نے منظم انداز میں کارروائی کی اور فائرنگ کے دوران متاثرین کی عمر یا حالت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا،جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور سمیت 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔دی پرنٹ کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ بونڈائی بیچ واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی بھارتی میڈیا کی مہم بے بنیاد اور گمراہ کن تھی۔محض نام سامنے آتے ہی پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی گئی،جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے منظم پراپیگنڈا پھیلایا گیا تا ہم خود بھارتی ذرائع ابلاغ اور پولیس کی تصدیق نے اس فالس فلیگ بیانیے کو دفن کر دیا ہے۔یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کر گیا کہ حقائق کے سامنے جھوٹ، پروپیگنڈا اور الزام تراشی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز