تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)خلیج کے حساس سمندری علاقے میں کشیدگی نے ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں آبنائے ہرمز کے قریب ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد صورتحال انتہائی نازک ہو گئی ہے۔ایرانی ذرائع کے دعوے نے اس واقعے کو مزید سنگین بنا دیا ہے،جس کے مطابق نشانہ بننے والا جہاز امریکی پرچم تلے سفر کر رہا تھا،یوں یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشمکش اور عالمی طاقتوں کے درمیان تناو کی نئی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق قطر کے ساحلی علاقے کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے کے واقعے نے خلیج میں سیکیورٹی صورتحال کو ایک بار پھر انتہائی حساس بنا دیا ہے، جہاں میزائل یا ڈرون حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔اس واقعے کی تصدیق برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز نے بھی کی ہے،جس کے مطابق ایک بڑے جہاز کو نشانہ بنایا گیا تاہم حملے کی نوعیت اور اس کے مکمل اثرات سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
ایرانی میڈیا نے اس واقعے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نشانہ بننے والا جہاز امریکی ملکیت کا تھا اور امریکی پرچم تلے سفر کر رہا تھا جبکہ بعض رپورٹس میں اس کارروائی کو ایران سے منسوب کیا جا رہا ہے۔اگرچہ اس حوالے سے باضابطہ سطح پر مکمل تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی تاہم اس دعوے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے نفاذ میں تعاون کرنے والے ممالک کو خلیج کے اہم ترین بحری راستے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک نے حالیہ حالات کے دوران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دینے کی مکمل استعداد رکھتا ہے۔واضح رہے کہ یہ واقعہ نہ صرف خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی توانائی ترسیل اور بحری تجارت کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔