لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ(سی سی ڈی)کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کو ”مبینہ مقابلوں “میں پار کرنے کا سلسلہ جاری ہے،تازہ واقعہ میں لاہور میں سی سی ڈی کی زیر حراست ملزم مبینہ مقابلے میں مارا گیا، نواب ٹاون کے علاقے میں پولیس زیر حراست ملزم کو ریکوری کے لئے لیکر جا رہی تھی۔
’ایگزو نیوز‘کے مطابق لاہور کے علاقے نواب ٹاون میں سی سی ڈی پولیس کی زیر حراست ملزم قاسم علی مبینہ مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا،پولیس ملزم کو ریکوری کے لیے لے کر جا رہی تھی کہ اس دوران ملزم کے ساتھیوں نے گھات لگا کر پولیس ٹیم پر فائرنگ کر دی۔فائرنگ کے تبادلے میں زیر حراست ملزم قاسم علی مارا گیا جو کہ چوری،ڈکیتی،پولیس مقابلے اور دیگر دو درجن سے زائد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھا۔پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ حملہ آور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
یاد رہے کہ سی سی ڈی کے ان مبینہ مقابلوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں کیس بھی زیر سماعت ہے جبکہ سیالکوٹ کے شہری کی جانب سے اپنے بیٹے کی ممکنہ پولیس مقابلے میں ہلاکت روکنے کے لیے درخواست پر عدالت نے ڈسٹرکٹ جیل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر تے ہوئے اگلی سماعت پر سی سی ڈی کی قانونی حیثیت اور میکانزم پر ایڈووکیٹ جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر لیا جبکہ جسٹس فاروق حیدر نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ سی سی ڈی پنجاب میں پولیس مقابلے کر رہا ہے، دیکھنا ہے کہ سیکورٹی فورسز،پنجاب پولیس کی موجودگی میں سی سی ڈی بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟عدالتیں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کرتی ہیں،دیکھنا ہے کہ کیا سکیورٹی ادارے فیل ہو گئے جو سی سی ڈی بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی؟یہ بھی دیکھنا ہے کہ پولیس،سی ٹی ڈی،سی آئی اے اور دیگر فورس کی موجودگی میں اس ادارے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟۔
لاہور میں سی سی ڈی نے ایک اور زیر حراست ملزم پار کر دیا،مبینہ مقابلے کی کہانی وہی جو ہمیشہ سنتے آئے ہیں
23