اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے نے ملکی عدالتی نظام میں پائے جانے والے اہم ابہام کو دور کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ ہم پلہ حیثیت رکھتی ہیں۔اس فیصلے کے بعد دونوں عدالتوں کے دائرہ اختیار اور ذمہ داریوں کی نئی حدود متعین ہو گئی ہیں،جس سے آئندہ قانونی معاملات میں مزید وضاحت اور ہم آہنگی متوقع ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد ایک اہم اور رہنما فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملک کے اعلیٰ عدالتی ڈھانچے میں موجود ابہام کو بڑی حد تک دور کر دیا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ ہم پلہ حیثیت رکھتی ہیں اور دونوں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں آزادانہ طور پر کام کریں گی۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینی اور غیر آئینی نوعیت کے مقدمات کو ایک ساتھ چلانا پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے،اس لیے ایسے مقدمات کو الگ الگ فورمز پر منتقل کیا جائے گا،جہاں آئینی نوعیت کے کیسز وفاقی آئینی عدالت جبکہ عام سول اور دیگر اپیلیں سپریم کورٹ میں سنی جائیں گی۔
عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ متضاد فیصلوں سے بچنے کے لیے عدالتی احترام کا اصول اپنایا جائے گا تاکہ نظامِ انصاف میں ہم آہنگی برقرار رہے۔تفصیلی فیصلے کے مطابق آئین کے تحت دائر درخواستوں اور ان کی اپیلوں کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہوگا جبکہ سول نوعیت کے مقدمات بدستور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہائیکورٹس کے آئینی فیصلوں کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی تاہم بعض معاملات جیسے کرایہ داری اور خاندانی نوعیت کے کیسز اس دائرہ اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے مشترکہ فیصلے سے متعلق مقدمات کو ڈی کلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہر نوعیت کے مقدمے کو اس کے متعلقہ فورم پر ہی سنا جائے گا۔اس کے علاوہ توہین عدالت کے معاملات میں بھی یہ اصول طے کیا گیا کہ جس عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہو،وہی عدالت اس کیس کی سماعت کرے گی اور یہ اختیار عدالت کے وقار اور عملداری کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔عدالتی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف عدالتی نظام میں واضح تقسیم اور توازن پیدا کرے گا بلکہ مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں اور دائرہ اختیار کے تنازعات کو بھی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔