اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس طارق جہانگیری کی جانب سے دائر اپیل کو باقاعدہ نمبر الاٹ کر دیا ہے۔رجسٹرار آفس کے مطابق اس اپیل کو نمبر 4247 دیا گیا ہے۔جسٹس طارق جہانگیری نے ذاتی حیثیت میں یہ اپیل اس فیصلے کے خلاف دائر کی تھی جس کے تحت انہیں جوڈیشل ورک سے روک دیا گیا تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان کی عدالتی تاریخ ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ججز کے احتساب، عدالتی خودمختاری اور ان کے اختیارات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے میں مبینہ جعلی ڈگری کیس کے پس منظر میں جسٹس طارق جہانگیری کو جوڈیشل ورک سے روک دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف انہوں نے ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اور اب عدالت عظمیٰ نے ان کی اپیل کو نمبر 4247 الاٹ کر دیا ہے۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مبینہ جعلی ڈگری کیس کے پس منظر میں جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے چند روز قبل جسٹس طارق جہانگیری کو عدالتی کام سے روکنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد عدلیہ کے اندر اور باہر مختلف سوالات نے جنم لیا اور قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے فیصلے نے ججوں کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہونے کے بعد یہ معاملہ اب اعلیٰ عدلیہ کے ایجنڈے پر آ گیا ہے، اور قانونی ماہرین اسے نہ صرف جسٹس طارق جہانگیری کے مستقبل بلکہ عدالتی خودمختاری کے تناظر میں بھی اہم قرار دے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ اس پیش رفت کو عدالتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ فیصلہ مستقبل میں ججوں کے خلاف کارروائی کے دائرہ کار اور طریقہ کار پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔یوں، مبینہ جعلی ڈگری کیس سے شروع ہونے والا یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے دروازے تک پہنچ چکا ہے جہاں اس پر ہونے والی آئندہ سماعت ملک کی عدالتی تاریخ میں ایک اور اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
جوڈیشل ورک سے روکنے کا معاملہ،سپریم کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کی اپیل کو نمبر الاٹ کر دیا
13