لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں سامنے آنے والی ممکنہ ” سپر فلو“ لہر کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فلو کی نئی قسم زیادہ مہلک نہیں تا ہم اس کا پھیلاو معمول سے کہیں پہلے شروع ہو جانا خطرے کی گھنٹی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یورپ کے متعدد ممالک میں انفلوئنزا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے،جس سے صحت کے نظام پر دباو بڑھ رہا ہے،برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں فلو کے مریضوں کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے،جہاں ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کا دباو کورونا وبا کے بعد سب سے زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔برطانوی وزیر صحت نے بتایا کہ ملک بھر میں روزانہ اوسطاً 2 ہزار 600 سے زائد افراد فلو کے باعث ہسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی قسم کے فلو میں وبائی پھیلاو کی صلاحیت موجود ہے تا ہم اس کی شدت زیادہ نہیں۔اس کے باوجود بچوں اور بزرگوں میں اس کے اثرات زیادہ دیکھے جا رہے ہیں،جس کے باعث طبی ماہرین نے خصوصی احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا ہے۔حکام کے مطابق سپر فلو کھانسی اور چھینک کے ذریعے پھیلتا ہے اور اس کی عام علامات میں بخار،جسم درد،شدید تھکن،سردی لگنا اور نزلہ شامل ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے عوام کو ماسک کے استعمال، ہاتھوں کی صفائی اور رش والی جگہوں سے گریز کی ہدایت کی ہے تا کہ وائرس کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ انفلوئنزا کے کیسز کی مسلسل نگرانی کریں،ہنگامی طبی تیاریوں کو مکمل رکھیں اور ہسپتالوں پر دباو کم کرنے کے لیے بروقت اقدامات کریں۔ماہرین کے مطابق چونکہ عوام کا اس نئی قسم کے وائرس سے پہلے کم سامنا رہا ہے،اسی وجہ سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تا ہم بروقت احتیاط سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔