کوئٹہ(ایگزو نیوز ڈیسک)عید سے قبل کوئٹہ ایک ہولناک سانحے سے لرز اٹھا،جہاں چمن پھاٹک کے قریب مسافر ٹرین کے پاس ہونے والے خودکش دھماکے نے شہر کو خون میں نہلا دیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں درجنوں افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دھماکے کی شدت نے نہ صرف ٹرین کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا جبکہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جانب سے ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد واقعے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ایک ہولناک دھماکے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں مبینہ خودکش حملے میں مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ٹرین ریلوے ٹریک کے قریب سے گزر رہی تھی، جس کی شدت کے باعث انجن سمیت کئی کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ کچھ الٹ بھی گئیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں کم از کم 20 سے 30 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 70 سے زائد زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے،جہاں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی گاڑیوں اور تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا جبکہ دھماکے کے بعد علاقے میں فائرنگ کے واقعات نے خوف و ہراس میں مزید اضافہ کر دیا۔سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول میں لیا اور امدادی سرگرمیاں بحال کیں۔ذرائع کے مطابق نشانہ بننے والی شٹل ٹرین میں سوار مسافروں کو کوئٹہ کینٹ سے سٹی سٹیشن منتقل کیا جا رہا تھا جہاں سے انہیں جعفر ایکسپریس کے ذریعے پشاور روانہ ہونا تھا۔متاثرہ افراد میں بڑی تعداد سرکاری ملازمین کی بتائی جا رہی ہے جو عید کی تعطیلات کے سلسلے میں اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے تھے۔دوسری جانب کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرین میں سیکیورٹی اہلکار سوار تھے تاہم حکام اس دعوے کی مختلف پہلووں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ ایسے حملے قومی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور اس واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں جبکہ سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔