اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی شہری تحفظ اور جانوروں کے حقوق دونوں کے لیے ایک سنگین اور پیچیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے،ایک جانب کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے،جس نے حکومتی پالیسی، عمل درآمد اور نگرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق چند روز قبل سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال کے علاقے عمرکے کلاں میں چار بچوں کے والد یاسر خان مبینہ طور پر کتے کے کاٹنے کے بعد جان کی بازی ہار گئے۔یہ واقعہ صوبے میں پیش آنے والے ایسے کئی واقعات میں سے ایک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد آوارہ کتوں کے کاٹنے سے متاثر ہوئے،جس کے باعث شہری علاقوں میں خوف،بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔لاہور کی معروف نجی ہاوسنگ سوسائٹی پیراگون سٹی کے رہائشی رضوان نیازی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں آوارہ کتے غول کی صورت میں گھومتے ہیں،جس کے باعث بچوں اور بزرگوں کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہو چکا ہے۔
جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے کنوینئر قیصر شریف،جو گزشتہ سات ماہ سے سوشل میڈیا اور عوامی فورمز پر آوارہ کتوں کے مسئلے کو اجاگر کر رہے ہیں،کا کہنا ہے کہ باولے کتے کے کاٹنے سے ایک باپ کی موت محض حادثہ نہیں بلکہ پنجاب حکومت کی کھلی نا اہلی،مجرمانہ غفلت اور بے حسی کا نتیجہ ہے۔ان کے مطابق پبلک ایڈ کمیٹی نے متعدد بار درخواستیں دیں،احتجاج کیے، نشاندہی کی اور حکومت کی توجہ دلانے کی کوشش کی مگر عوامی آواز کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔قیصر شریف نے کہا کہ یاسر خان کی موت نے ایک خاندان کو اجاڑ دیا،چار بچے یتیم ہو گئے اور ایک ماں زندگی بھر کے دکھ کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو گئی،یہ صرف ایک فرد کی موت نہیں بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے آوارہ کتوں سے متعلق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے قائم کی گئی آٹھ رکنی کمیٹی کی کارکردگی کو بھی صفر قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا جائے۔
دوسری جانب جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن عائزہ حیدر کا کہنا ہے کہ ٹریپ،نیوٹر،ویکسینیٹ اور ریلیز(ٹی این وی آر)پالیسی کا مقصد ہی یہ تھا کہ شہریوں کو کتوں کے کاٹنے اور ریبیز جیسے مہلک مرض سے محفوظ رکھا جا سکے تاہم اس پالیسی پر موثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عوام میں غصہ بڑھ رہا ہے اور پرانے،غیر انسانی طریقے دوبارہ اختیار کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے ٹی این وی آر پالیسی پر عمل کرے،آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسی نیشن کو یقینی بنائے تو صورتحال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔حکومت پنجاب نے 2022 میں اس پالیسی کی منظوری دی تھی،جس کے تحت لوکل گورنمنٹ کے عملے کو آوارہ کتوں کو پکڑ کر ویٹرنری مراکز منتقل کرنا تھا،جہاں نس بندی اور ویکسی نیشن کے بعد انہیں واپس چھوڑا جانا تھا تاہم عملی طور پر یہ پالیسی صوبے کے بیشتر علاقوں میں نافذ نہ ہو سکی۔
پنجاب لائیو سٹاک لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ویٹرنری ہسپتال برکی میں تعینات ڈاکٹر طلحہ یزدانی کے مطابق ان کے مرکز میں گزشتہ چند ماہ کے دوران 300 کتوں کی نس بندی اور 250 کتوں کی ویکسی نیشن کی جا چکی ہے،فیلڈ سے کتوں کو پکڑ کر لانا لوکل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے تاہم یہ عمل تربیت کے باوجود عملی مشکلات کا شکار ہے۔ڈاکٹر طلحہ یزدانی نے تجویز دی کہ آوارہ کتوں کو قابو میں لانے کے لیے ڈارٹ گن کے استعمال کی اجازت دی جانی چاہیے،جیسا کہ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ جنگلی جانوروں کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے،مادہ کے بجائے نر کتوں کی نس بندی نسبتاً آسان اور کم خرچ طریقہ ہے،جو آبادی کنٹرول میں موثر ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری سے 2030 تک ریبیز فری ملک بننے کا وعدہ کر رکھا ہے،جسے پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آوارہ کتوں کی ویکسی نیشن ناگزیر ہے۔
جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے کنوینئر قیصر شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی آٹھ رکنی کمیٹی تا حال آوارہ کتوں سے عوام کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ایک فیصد کوئی کام نہیں کر سکی،وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور کی مسلسل مہم کے بعد آوارہ کتوں کے معاملے پر اکتوبر کے آغاز میں نوٹس لیا،چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمانے سی ایم صاحبہ کی ہدایت پر 8 اکتوبر کو پنجاب بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کا اجلاس کیا اور اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کی بات کی،20دسمبر کو آوارہ کتوں کے ایشو پر آٹھ رکنی کمیٹی بنائی گئی،82 دن بعد پھر 30 دسمبر کو دوبارہ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت پنجاب بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کا اجلاس کیا،وہی الفاظ اور جملے دوبارہ دہرائے گئے تا حال رزلٹ زیرو ہے اور ہر روز ایسے افسوسناک واقعات رونما ہو رہے ہیں۔دوسری جانب ماہرین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ جذباتی ردعمل کے بجائے سائنسی،انسانی اور پالیسی پر مبنی اقدامات کا متقاضی ہے تا کہ عوامی تحفظ اور جانوروں کے حقوق دونوں کو یکساں طور پر یقینی بنایا جا سکے۔