اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ٹرمپ کے دھمکی نما پیغام کے بعد خطے میں کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خطرے کے پیشِ نظر پاکستان سمیت امریکہ کے تمام اتحادی ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔سابق پاکستانی سفیر سردار مسعود خان نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں انتہاپسند حلقے صدر ٹرمپ پر دباو ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران پر حملہ کریں اور اگر یہ جنگ چھڑی تو اس کے تباہ کن اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے،پاکستان کو بھی اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں جبکہ خطے میں امن و استحکام شدید خطرے میں ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےپاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت تباہ کن جنگ چھڑ سکتی ہے،جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے اور امریکہ کے اتحادیوں تک پھیل سکتے ہیں،امریکہ میں انتہا پسند ری پبلکن اور ڈیموکریٹ حلقے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران پر حملہ کرنے کے لیے دباو ڈال رہے ہیں اور اس وقت جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔سردار مسعود خان کے مطابق اگرچہ پس پردہ محدود سفارت کاری جاری ہے اور ایران کے وزیر خارجہ کا اسٹیو وٹکوف سے رابطہ بھی ہوا ہے، جس میں جوہری معاملات دوبارہ زیرِ بحث آئے ہیں تاہم مجموعی صورتحال کا رخ فوجی آپشنز کی جانب بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ایک اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس متوقع ہے،جس میں صدر ٹرمپ کو مختلف آپشنز پیش کیے جائیں گے،جن میں فوجی حملہ بھی شامل ہو گا اور امکان ہے کہ ان میں سے کسی ایک کی منظوری دے دی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران واضح کر چکا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ بھرپور جوابی کارروائی کرے گا،خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی فوجی اڈے اس کے نشانے پر ہوں گے،جو خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔سابق سفیر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے بعض بااثر سینیٹرز اور کانگریس کی امریکہ۔اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کھل کر ایران پر حملے کا مشورہ دے رہی ہیں جبکہ اسرائیل ایران کے ساتھ گزشتہ برس کی نا مکمل جنگ کو مکمل کرنا چاہتا ہے۔سردار مسعود خان کے مطابق اسرائیل کے اہداف میں ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا،اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانا اور ملک کے اندر نسلی و لسانی بنیادوں پر عدم استحکام پیدا کرنا شامل ہے،صورتحال اس حد تک کشیدہ ہو چکی ہے کہ ایک چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو وہ نہ صرف تباہ کن ہو گی بلکہ پاکستان بھی اس کی زد میں آسکتا ہے،جس سے ہمارے لیے سنگین سیاسی،معاشی اور سفارتی مسائل پیدا ہوں گے جبکہ امریکہ کے اتحادی ممالک کو بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے اور وینزویلا،ایران اور گرین لینڈ جیسے معاملات میں اصل ہدف چین کو دباو میں لانا ہے کیونکہ عالمی سطح پر متبادل مالیاتی نظام ابھر رہا ہے۔سردار مسعود خان نے مزید کہا کہ امریکہ خود کو طاقتور ظاہر کر رہا ہے لیکن درحقیقت عدم اعتماد کا شکار ہے جبکہ معرکہ حق کے بعد بھارت بھی سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے،آنے والے دن خطے کے لیے نہایت فیصلہ کن اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔