Home » ریاستیں نسلوں سے نہیں،نظریوں سے چلتی ہیں

ریاستیں نسلوں سے نہیں،نظریوں سے چلتی ہیں

تحریر:ڈاکٹر تنویرقاسم

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

دنیا اس وقت ایک فیصلہ کن فکری موڑ پر کھڑی ہے جہاں بومرز،جنریشن ایکس،جنریشن زی اور الفا محض سماجی اصطلاحات نہیں رہیں بلکہ سیاست،اقتدار اور ریاستی بیانیے کو سمجھنے کا نیا زاویہ بن چکی ہیں۔عالمی اور مقامی مباحث میں بار بار یہ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ بومرز کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب جنریشن زی تاریخ کا نیا رخ متعین کرے گی مگر اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی نسل اقتدار میں آئے گی بلکہ یہ ہے کہ قیادت کی اہلیت کا پیمانہ عمر ہو یا وژن؟؟؟اگر ہم دنیا کی بڑی ریاستوں پر نظر ڈالیں تو ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔بیانیہ یہ ہے کہ نوجوان دنیا بدل رہے ہیں مگر اقتدار اب بھی بڑی حد تک عمر رسیدہ قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ امریکہ میں بوڑھے بائیڈن کا دور گزر چکا اور اب ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ صدر ہیں۔ایک ایسے رہنما جو خود طویل العمر ہیں اور بومرز ہی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چین میں شی جن پنگ ستر کی دہائی میں داخل ہو چکے ہیں اور ایک مضبوط،مرکزی اتھارٹی کے ساتھ اقتدار میں موجود ہیں۔بھارت میں نریندر مودی بھی عمر کے اسی مرحلے میں ہیں جہاں انہیں بومرز میں شمار کیا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی سیاست،بیورو کریسی اور طاقت کے بڑے مراکز پر نظر ڈالیں تو قیادت کا بڑا حصہ اسی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ دنیا میں یہ تاثر درست نہیں کہ بوڑھے اقتدار سے باہر ہو چکے ہیں۔حقیقت اس کے برعکس ہے۔۔دنیا اب بھی بوڑھوں کے زیر قیادت ہے۔اگر محض عمر ہی نا اہلی کی علامت ہوتی تو یہ ریاستیں کب کی ناکام ہو چکی ہوتیں۔یہاں سے یہ بنیادی نکتہ ابھرتا ہے کہ ریاستیں انسانوں کی عمروں سے نہیں بلکہ ویژن، نظریے اور ادارہ جاتی فہم سے چلتی ہیں۔مسئلہ عمر کا نہیں،اس سوچ کا ہے جو وقت کے ساتھ بدلنے سے انکار کر دے۔جنریشن زی اور اس کے بعد آنے والی نسلیں اسی جمود کے خلاف ردِعمل ہیں۔یہ نسل حب الوطنی کو نعروں،تقاریر اور سکول کالج کے لیکچرز سے نہیں جانچتی۔اس کے نزدیک patriotism ایک فطری جذبہ ہے جو تب پیدا ہوتا ہے جب ریاست شہری کو باعزت روزگار،ڈیجیٹل آزادی،مساوی مواقع اور بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔جہاں یہ سب موجود ہو،وہاں حب الوطنی سکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

انٹرنیٹ نے طاقت اور بیانیے کی اجارہ داری توڑ دی ہے۔نئی نسل اب یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ”یہی سچ ہے کیونکہ اقتدار یہی کہتا ہے“۔ وہ دیکھتی ہے،پرکھتی ہے اور خود نتیجہ اخذ کرتی ہے۔شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز میں نہ کہے، اس لیے کہ بولنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے مگر وہ سب کچھ سمجھ رہی ہے۔خود ساختہ اخلاقیات،حب الوطنی کے سرٹیفکیٹس اور طاقت کے دعوے اب اس کے لیے قائل کرنے والے نہیں رہے۔اس کے نتیجے میں ایک خاموش مگر گہرا بحران جنم لے رہا ہے۔نوجوانوں نے یہ حقیقت تسلیم کر لی ہے کہ طاقتوروں کو براہِ راست چیلنج کرنا آسان نہیں۔چنانچہ وہ احتجاج کے بجائے ہجرت کو ترجیح دے رہے ہیں۔وہ خاموشی سے ملک چھوڑ رہے ہیں۔یہ کسی بھی ریاست کے لیے سب سے خطرناک صورتحال ہوتی ہے کیونکہ احتجاج نظام کو چونکاتا ہے مگر خاموش روانگی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

یہاں نظامانی کے نظریے کی اہمیت پوری شدت سے سامنے آتی ہے۔ریاست جذبات،سوشل میڈیا کے شور اور وقتی رجحانات سے نہیں چلتی۔ادارے تجربے،قانون اور تسلسل سے بنتے ہیں۔نوجوانی کا جوش اگر مکمل اختیار پا لے تو ریاستی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔تاریخ اس کی گواہ ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تجربہ دانش کے بجائے جمود بن جائے اور تسلسل اصلاح کے بجائے اقتدار سے چمٹے رہنے کا جواز۔جب عمر رسیدہ قیادت بدلتے وقت کو سننے سے انکار کر دے،نئی نسل کی زبان اور ترجیحات کو غیر سنجیدہ سمجھے اور ہر سوال کو بغاوت قرار دے،تب اصل بحران جنم لیتا ہے۔درست راستہ کسی ایک انتہا میں نہیں۔نہ یہ کہنا درست ہے کہ اب بڑوں کی ضرورت نہیں رہی اور نہ یہ کہ نوجوان ناتجربہ کار ہیں اور انہیں نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ریاست تب مضبوط رہتی ہے جب تجربہ پالیسی کی بنیاد رکھے اور نئی نسل زمینی حقیقت سامنے لائے۔جب بوڑھی قیادت سیکھنے کا حوصلہ رکھے اور نوجوان بولنے کی امید نہ چھوڑیں۔دنیا کی مثالیں یہی بتاتی ہیں کہ فیصلہ کن عنصر عمر نہیں بلکہ ویژن ہے۔منڈیلا عمر رسیدہ تھے مگر ان کا وژن جوان تھا۔اس کے برعکس بعض نوجوان حکمران عمر میں کم مگر سوچ میں فرسودہ ثابت ہوئے۔اصل سوال یہ نہیں کہ حکمران کی عمر کیا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ کس صدی میں سوچ رہا ہے؟چنانچہ اس تحریر کو کسی ایک سیاسی جماعت یا وقتی سیاست سے جوڑنا فکری نا انصافی ہے۔یہ دراصل ایک بدلتی دنیا کا عکس ہے،جہاں نسلیں بدل رہی ہیں،طاقت کے ذرائع تبدیل ہو رہے ہیں اور ریاستوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ صرف اقتدار بچائیں گی یا مستقبل بھی؟؟۔ریاستیں جذبات سے نہیں چلتی ہیں،یہ بات درست ہے لیکن ریاستیں محض طاقت سے بھی نہیں چل سکتیں۔ریاستیں تب چلتی ہیں جب تجربہ اور نئی سوچ ایک دوسرے کے مد مقابل نہیں بلکہ ایک ہی میز پر بیٹھے ہوں۔شاید یہی درمیانی راستہ ہے اور شاید یہی واحد راستہ بھی۔۔۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز