اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف نے حالیہ سیاسی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست سے بڑا کوئی نہیں ہوتا اور اگر راولا کوٹ میں دھرنا دینے والوں سے متعلق کسی وفاقی وزیر کے بیان پر بلاول بھٹو معافی کا مطالبہ کرتے ہیں تو معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے تاہم محض معافی سے معاملات حل نہیں ہوں گے بلکہ اصل ذمہ داران کو سامنے لانا ضروری ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ’ایکس‘پر اپنے بیان میں میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جہاں مسلح جتھوں کے ذریعے منتخب حکومتوں پر دباو ڈالا گیا،2014 کے ماڈل ٹاون واقعے اور ڈی چوک میں ہونے والی سرگرمیوں میں بھی ایسے عناصر متحرک رہے جنہوں نے دو تہائی اکثریت رکھنے والے منتخب وزیراعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
جاوید لطیف نے سوال اٹھایا کہ ان مسلح گروہوں کی سرپرستی کرنے والے عناصر کو اب تک بے نقاب کیوں نہیں کیا گیا اور ان کے خلاف کارروائی کیوں عمل میں نہیں لائی گئی۔انہوں نے زور دیا کہ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ ان کرداروں کی نشاندہی کریں اور ان کے خلاف واضح فیصلے کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔انہوں نے آزاد کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں ایکشن کمیٹی نے عوامی مطالبات کے نام پر جو کردار ادا کیا،اس وقت بھی ان کی سرپرستی کرنے والوں کو سوچنا چاہیے تھا کہ منتخب حکومت کے ذریعے مسائل حل کیے جاتے تاکہ جمہوری نظام کی ساکھ برقرار رہتی۔ان کے بقول اس ایکشن کمیٹی کو غیر معمولی طاقت فراہم کی گئی اور یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کے پیچھے کون لوگ تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ماضی میں ڈی چوک میں مسلح جتھوں کی سرپرستی نہ کی جاتی تو 9 اور 10 مئی جیسے واقعات پیش نہ آتے اور اگر 2025 میں ایکشن کمیٹی کو اس حد تک مضبوط نہ بنایا جاتا تو آج راولا کوٹ جیسے حالات پیدا نہ ہوتے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام عناصر کے نام عوام کے سامنے لائے جائیں اور ان کے خلاف موثر کارروائی کی جائے۔
میاں جاوید لطیف نے یہ بھی کہا کہ آج جو عناصر ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے بات کر رہے ہیں،ان کی قیادت اور پس منظر کے بارے میں اداروں کو پہلے سے علم ہونا چاہیے تھا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی حقیقی کشمیری پاکستان سے علیحدگی کی بات کر سکتا ہے جبکہ گزشتہ 75 برسوں میں پاکستانیوں اور کشمیریوں نے اس مقصد کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال محض ایک سادہ سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے دیگر عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں،جنہیں سمجھنے اور سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق صرف ایک بیان پر معافی مانگ لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ان تمام محرکات اور کرداروں کا تعین کرنا ہوگا جو اس قسم کے حالات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔