اسلام آباد(ایگزو نیوزڈیسک)سٹیٹ لائف کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی سکینڈل کے دیرینہ متاثرین کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آ گئی ہے،جہاں قومی احتساب بیورو(نیب) اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں 2 ہزار 988 الاٹیز کو ان کے پلاٹس کا قبضہ فراہم کر دیا گیا۔لاہور میں منعقدہ تقریب میں یہ پیش رفت باضابطہ طور پر سامنے آئی،جسے تقریباً دو دہائیوں سے انصاف کے منتظر متاثرین کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی مسلسل کاوشوں، سرکاری اداروں کے تعاون اور نجی شعبے کے اشتراک سے سٹیٹ لائف کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کے تقریباً دو دہائیوں سے متاثرہ 2 ہزار 988 الاٹیز کو بالآخر ان کے پلاٹوں کا قبضہ دے دیا گیا، جسے ایک بڑی پیش رفت اور متاثرین کے لیے اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔لاہور میں لیک سٹی میڈوز کے مقام پر منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد بٹ نے متاثرین میں قبضے کے لیٹرز تقسیم کیے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب عوامی مفادات کے تحفظ اور شہریوں کی مالی داد رسی کے لیے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گا اور ایسے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانا ادارے کی ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ سٹیٹ لائف کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کے خلاف شکایات کا آغاز اس وقت ہوا جب متاثرین نے پلاٹوں کی فراہمی میں طویل تاخیر اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے خلاف نیب سے رجوع کیا۔ تحقیقات کے مطابق سوسائٹی کے لیے تقریباً 5 ہزار کنال اراضی خریدی جانی تھی تاہم اس کے نام صرف 63 کنال اراضی منتقل کی گئی،جس پر ایک ارب 14 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث 2014 میں باضابطہ انکوائری شروع کی گئی۔بعد ازاں 2024 میں سوسائٹی کا لیک سٹی ہولڈنگز کے ساتھ الحاق عمل میں آیا،جس کے نتیجے میں مسئلے کے حل کی راہ ہموار ہوئی۔ نیب کی نگرانی میں چیئرمین لیک سٹی گوہر اعجاز اور دیگر شراکت داروں کی کوششوں سے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں 6 ہزار 750 متاثرین کو الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے گئے تھے اور تین سال کے اندر قبضہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم اس ہدف سے قبل ہی 2 ہزار 988 متاثرین کو قبضے کے لیٹرز فراہم کر دیے گئے،جسے پیش رفت کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے بتایا کہ جس اراضی کی مالیت ڈیڑھ سال قبل تقریباً 4 ارب روپے تھی،وہ اب بڑھ کر 50 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور مستقبل میں اس کی مالیت 200 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے،جو اس منصوبے کی معاشی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
ڈی جی نیب لاہور مرزا فاران بیگ نے مسئلے کے حل میں بورڈ آف ریونیو،ایل ڈی اے،واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الادارہ جاتی تعاون کے بغیر اس نوعیت کے پیچیدہ معاملات کا حل ممکن نہیں تھا۔ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ نے بھی اس پیش رفت کو ایک پائیدار اور قابل عمل حل قرار دیا۔اس موقع پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نبیل جاوید نے شفاف حکمرانی اور اداروں کے درمیان موثر ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا جبکہ چیئرمین لیک سٹی ہولڈنگز گوہر اعجاز نے یقین دہانی کرائی کہ منظور شدہ فریم ورک کے تحت باقی ترقیاتی کام بھی جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔
تقریب میں آئی جی پنجاب،آئی جی جیل خانہ جات،ڈی جی ایل ڈی اے،رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز پنجاب، نیب کے اعلیٰ حکام اور متاثرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ متاثرین نے اس پیش رفت کو انصاف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔