بیجنگ(ایگزو نیوز ڈیسک)سپین نے اسرائیل کے خلاف کھل کر مو¿قف اختیار کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف عالمی قوانین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے بلکہ ان خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی حکومتوں کو بھی دباو¿ اور دھمکیوں کا سامنا ہے، جو عالمی نظامِ انصاف کے لیے ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے چین کے صدر شی جن پنگ سے بیجنگ میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسرائیل پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ممالک کو بھی دباو¿ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ان خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے مو¿ثر اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ چین اس معاملے میں ایک اہم اور مو¿ثر سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اس کی کوششیں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔اس موقع پر دونوں رہنماو¿ں کے درمیان اسپین اور چین کے دوطرفہ تعلقات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ سپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید متوازن اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، زرعی مصنوعات کی چینی منڈی تک رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یورپ اور اسپین کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا جائے، تاکہ عالمی اقتصادی اور سفارتی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔اس سے قبل بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں شی جن پنگ نے بھی دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے پر زور دیا اور مشترکہ ترقی کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی اور معاشی چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بڑی طاقتیں اپنے تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سپین نے اسرائیل کے خلاف آواز بلند کر دی،ہسپانوی وزیر اعظم کا عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت موقف
4