لزبن(ایگزو نیوز ڈیسک)سپین نے امیگریشن پالیسی میں ایک بڑا اور غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کی منظوری دے دی ہے،جسے یورپ میں ایک اہم پالیسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم پیدرو سانچیزنے اس فیصلے کو معاشی ضرورت اور سماجی انصاف سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے ان افراد کو باقاعدہ نظام میں شامل کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی ملک کی معیشت اور معاشرتی ڈھانچے کا حصہ بن چکے ہیں۔
ایگزو نیوزکے مطابق سپین کی حکومت نے تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے،جسے ملک کی امیگریشن پالیسی میں ایک اہم اور دور رس اثرات کا حامل اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم پیدرو سانچیزنے ہسپانوی عوام کے نام اپنے پیغام میں اس فیصلے کو انصاف پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ان افراد کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے جو طویل عرصے سے معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تارکین وطن نہ صرف معیشت کو سہارا دے رہے ہیں بلکہ عوامی خدمات کے نظام کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں،خاص طور پر ایسے وقت میں جب سپین کی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سپین خود بھی ماضی میں ہجرت کرنے والے افراد کا ملک رہا ہے،اس لیے یہ فیصلہ تاریخی اور انسانی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
حکومتی منصوبے کے تحت اہل افراد کو ایک سالہ رہائشی اجازت نامہ جاری کیا جائے گا جس کی تجدید ممکن ہوگی جبکہ انہیں ملک کے کسی بھی حصے میں کام کرنے کی اجازت بھی حاصل ہوگی تاہم اس کے لیے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ درخواست دہندگان کم از کم پانچ ماہ سے سپین میں مقیم ہوں اور ان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہو۔درخواستوں کی وصولی کا عمل 16 اپریل سے جون کے اختتام تک جاری رہے گا۔دوسری جانب اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے مزید غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے اور وہ اس قانون سازی کو روکنے کی کوشش کرے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 تک سپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیر قانونی تارکین وطن موجود تھے جبکہ مجموعی آبادی میں 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی باشندے شامل ہیں،جو ملک کی سماجی اور معاشی ساخت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کے دیگر ممالک امیگریشن قوانین کو سخت کر رہے ہیں،جس سے سپین کا یہ اقدام خطے میں ایک مختلف اور نمایاں پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔