وانا(ایگزو نیوز ڈیسک)جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے رستم بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں معروف مذہبی و سماجی شخصیت مفتی جان میر مستی خیل جاں بحق ہو گئے۔پولیس کے مطابق دھماکا ایک سپر مارکیٹ کے نچلے حصے میں ہوا،جہاں مبینہ طور پر بارودی مواد نصب کیا گیا تھا اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے کا ہدف مفتی جان میر ہی تھے۔
وانا سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اصغر علی شاہ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں مفتی جان میر شدید زخمی ہوئے،جنہیں فوری طور پر ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے گئے۔ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نامعلوم افراد نے بارودی مواد مبینہ طور پر مفتی جان میر کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیا تھا۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے حملے میں ملوث عناصر اور اس کے محرکات کا تعین کرنے کیلئے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر مختلف پہلووں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مفتی جان میر مستی خیل علاقے میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے رہے اور مقامی تنازعات کے حل کیلئے قبائلی جرگوں میں بھی شریک ہوتے تھے۔وہ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں بطور استاد بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔مقامی ذرائع کے مطابق مفتی جان میر ماضی میں شدت پسند عناصر کے خلاف آواز اٹھانے والی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی اداروں اور پولیس نے حملے کے ذمہ داروں تک پہنچنے کیلئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔