سیئول(ایگزو نیوز ڈیسک)جنوبی کوریا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک غیر معمولی عوامی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ شہریوں کو مفت اور لامحدود اے آئی سہولیات تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو عام شہری کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا اور ہر فرد کو مصنوعی ذہانت کے فوائد تک یکساں رسائی فراہم کرنا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومتی منصوبے کے تحت شہریوں کو جدید اے آئی چیٹ بوٹس سمیت مختلف مصنوعی ذہانت کی سہولیات دستیاب ہوں گی،جنہیں صحت،مالی معاملات،تعلیم اور روزمرہ مسائل سے متعلق معلومات اور معاونت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔اس منصوبے کو جنوبی کوریا کی جانب سے اے آئی کو عوامی سہولت اور بنیادی ڈیجیٹل ضرورت کے طور پر فروغ دینے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔جنوبی کوریا کی وزارت سائنس و آئی سی ٹی کے مطابق ’اے آئی فار ایوری ون‘ منصوبے کے لیے بولی میں حصہ لینے والی چھ کمپنیوں میں سے تین سنڈیکیٹس کا ابتدائی طور پر انتخاب کرلیا گیا ہے۔حکومت ان منتخب گروپس کو ملک میں اے آئی انفراسٹرکچر اور مقامی ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے جدید کمپیوٹنگ وسائل بھی فراہم کرے گی۔وزارت کے مطابق تینوں منتخب گروپس کو مجموعی طور پر 512 این ویڈیا بی 200 گرافکس پروسیسنگ یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔ان جدید جی پی یوز کے ذریعے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کی خدمات چلانے اور ملک میں اے آئی کی مقامی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔حکومت نے اس منصوبے کو ابتدائی مرحلے تک محدود رکھنے کے بجائے 2027 سے ملک گیر اے آئی سروس کے اخراجات خود برداشت کرنے کے لیے بھی جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔اس کا مقصد شہریوں کے لیے اے آئی سہولیات کو طویل مدت تک قابل رسائی اور کم یا بلا معاوضہ رکھنا ہے۔
حکام کے مطابق منتخب گروپس کے ساتھ ستمبر تک باضابطہ معاہدے مکمل ہونے کی توقع ہے،جس کے بعد سروس کا آزمائشی یا بیٹا ورژن متعارف کرایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت رواں سال کے اختتام تک یہ سہولت مکمل طور پر عوام کے لیے فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔جنوبی کوریا کا یہ اقدام اس وسیع تر حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے ملک مصنوعی ذہانت،ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی میں اپنی عالمی حیثیت مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اے آئی تک رسائی صرف بڑی کمپنیوں یا ٹیکنالوجی کے ماہرین تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہری بھی اس سے براہ راست فائدہ اٹھا سکیں۔منصوبے کے ممکنہ اثرات میں شہریوں کے لیے معلومات تک تیز رسائی،تعلیمی معاونت،ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں آسانی اور کاروباری و پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔یوں جنوبی کوریا مصنوعی ذہانت کو محض ایک جدید ٹیکنالوجی کے بجائے وسیع پیمانے پر عوامی سہولت کے طور پر متعارف کرانے کی سمت میں اہم قدم اٹھا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے منصوبے کے عملی آغاز کے بعد اس بات کا بھی تعین ہو گا کہ مختلف اے آئی پلیٹ فارمز،سہولیات اور استعمال کی حدود شہریوں کو کس انداز میں فراہم کی جاتی ہیں تاہم موجودہ اعلان نے جنوبی کوریا کو عوامی سطح پر اے آئی کی رسائی بڑھانے کے حوالے سے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔