ہنگو(ایگزو نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور 27 اگست کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے،اس بار احتجاج میں 20 لاکھ نہیں بلکہ 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانے کی کوشش کی جائے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق ہنگو میں ابوبکر صدیق چوک پر سٹریٹ موومنٹ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق تین رکنی عدالتی فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے نظرانداز کیا،عدالتی احکامات پر عملدرآمد ریاستی اداروں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے تاہم عمران خان کے معاملے میں مقررہ مدت گزرنے کے باوجود فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ عام شہریوں یا اپوزیشن سے متعلق عدالتی یا دیگر اداروں کے احکامات پر فوری کارروائی ہوتی ہے لیکن عمران خان کے علاج کے حوالے سے عدالتی ہدایات پر مختلف طرز عمل اختیار کیا گیا،عدالتوں کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ملک میں قانون کی عملداری سب کے لیے یکساں ہے یا نہیں،ایک ریاست میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قوانین نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے عمران خان کی سیاسی جدوجہد کو اسی اصول سے جوڑتے ہوئے کہا کہ حقیقی آزادی کا بنیادی مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہر فرد پر ہو۔انہوں نے عدلیہ کے کردار پر بھی سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر طاقتور افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ممکن نہیں تو پھر کمزور اور زیرحراست افراد کے مقدمات اور سزاوں کے حوالے سے بھی انصاف کے تقاضوں کو یکساں طور پر ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ملک کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسان مشکلات کا شکار ہے جبکہ صنعت کار اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو رہا ہے،موجودہ حالات میں ریاستی اداروں اور عدالتوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا کہ ملک کو کس سمت لے جایا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر فیصلوں کا مقصد طاقتور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہے تو وہ ایسے طرز عمل کے خلاف کھڑے ہوں گے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے سیاسی اور جمہوری عمل میں فعال کردار ادا کریں،کیونکہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ نئی نسل کی شمولیت سے ہی ہو گا۔پی ٹی آئی خواتین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کی خواتین کارکنوں اور رہنماوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا۔انہوں نے عمران خان کی بہنوں سے متعلق بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ عمران خان کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ان کی بہن کے ایک ایک آنسو کا حساب لینے کی بات کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو متحرک رہنے کا پیغام دیا۔
اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے 27 اگست کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا باقاعدہ اعلان کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ احتجاج میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ عوامی شرکت ہو گی اور ہدف 20 لاکھ کے بجائے 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانا ہے۔پی ٹی آئی پہلے ہی 27 اگست کو احتجاج کی کال دے چکی ہے جبکہ سہیل آفریدی کے تازہ اعلان کے بعد اس احتجاج کو مزید بڑے سیاسی اجتماع میں تبدیل کرنے کی تیاریوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ کے خطاب سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کی صحت،عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور سیاسی حقوق کے معاملات کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی آئندہ دنوں میں حکومت پر سیاسی دباو بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کرنے جا رہی ہے جبکہ 27 اگست کا احتجاج اس سیاسی کشمکش میں اہم مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔