اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ہے،جس کے بعد بجٹ کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیے جانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں مالی نظم و نسق،ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ریلیف سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 2.7 ٹریلین روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجاویز بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد آئندہ مالی سال کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں صوبائی وزرا،معاون خصوصی،مشیران،چیف سیکرٹری،سیکرٹریز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ مالی سال میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو سراہا گیا۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے سندھ حکومت کے بجٹ کا مجموعی حجم 2.7 ٹریلین روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے۔تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ پنشن میں 5 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق مالی مشکلات کے باعث تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت کی کوشش رہی کہ ملازمین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، تاہم موجودہ مالی صورتحال کے پیش نظر محدود اضافہ ممکن ہو سکا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ نئے بجٹ میں تمام طبقات کو مدنظر رکھا گیا ہے اور حکومت عوامی فلاح و ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر صوبائی حکومت غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔یاد رہے کہ سندھ کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ خود بجٹ پیش کریں گے۔ترقیاتی بجٹ کا حجم رواں سال کے مقابلے میں 28 فیصد کم رکھا گیا ہے جبکہ مجموعی ترقیاتی پروگرام 385 ارب روپے پر مشتمل ہوگا جس میں 3594 جاری سکیمیں شامل ہیں۔بجٹ دستاویزات کے مطابق غیر منظور شدہ 120 نئی سکیموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔سندھ کی مجموعی آمدن کا 73 فیصد این ایف سی ایوارڈ پر انحصار ہے۔تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 8 فیصد اضافے کی متوقع تجویز بھی زیر بحث ہے۔