اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان مصطفی نواز کھوکھر نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مخلصانہ اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید بگڑ کر خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جنم لینے والا انسانی بحران نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی نواز کھوکھر نے کانفرنس کے انعقاد پر تحریک انصاف بلوچستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس فورم کا مقصد قومی قیادت،پالیسی سازوں اور اربابِ اختیار کو بلوچستان کے دگرگوں حالات کی سنگینی کا احساس دلانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل پر دہائیوں سے گفتگو جاری ہے تاہم زمینی حقائق میں بہتری نہیں آ سکی۔ان کے بقول بلوچستان کے حالات پر سب سے مستند رائے وہاں کے عمائدین اور عوامی نمائندوں کی ہونی چاہیے مگر بدقسمتی سے اصل نمائندگی کا تصور ہی متنازع ہو چکا ہے۔
مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ بلوچستان میں انتخابی عمل ہمیشہ سے شفاف اور منصفانہ نہیں رہا،جس کے باعث حقیقی عوامی نمائندے اسمبلیوں تک پہنچنے سے محروم رہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یا تو اہل امیدواروں کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا یا پھر ان کے لیے ایسی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جن کے باعث وہ موثر انداز میں عوام کی نمائندگی نہ کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہی صورتحال نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے،جس کی ایک مثال آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والا موجودہ سیاسی بحران ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب عوام کے حقیقی نمائندوں کو سامنے آنے کا موقع نہیں دیا جاتا تو اس کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں اور مسائل پیچیدہ تر ہو جاتے ہیں۔مصطفی نواز کھوکھر نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل صرف سنجیدہ،شفاف اور جامع سیاسی عمل میں پوشیدہ ہے،جس میں مقامی قیادت کو حقیقی نمائندگی دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر نیت اور عمل میں بہتری نہ لائی گئی تو خدشہ ہے کہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں،جس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔