پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی تازہ رپورٹ نے صوبے میں امن و امان کی سنگین صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق صرف گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران صوبے بھر میں دہشت گردی کے 766 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں 293 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 878 کو گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب بھی تین ہزار سے زائد دہشت گرد مطلوب ہیں۔ان واقعات کے دوران 417 شہری اور سیکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 925 زخمی ہوئے،جو اس امر کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا عفریت صوبے میں بدستور شدت کے ساتھ موجود ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق حالیہ آٹھ ماہ میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں رہا جہاں 141 واقعات پیش آئے، 92 دہشت گرد گرفتار اور 28 مارے گئے۔شمالی وزیرستان میں 124 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 578 دہشت گرد نامزد کیے گئے۔ لکی مروت میں 73 حملوں کے دوران 26 افراد شہید ہوئے، 52 دہشت گرد گرفتار اور 27 ہلاک کیے گئے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں 66 واقعات میں 73 دہشت گرد گرفتار اور 102 مارے گئے۔پشاور میں 32 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 184 دہشت گرد گرفتار اور 9 ہلاک ہوئے۔جنوبی وزیرستان میں 63 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 20 دہشت گرد مارے گئے اور ایک گرفتار ہوا۔دیگر اضلاع اورکزئی،دیر،کرک اور کرم میں بھی درجنوں واقعات سامنے آئے جن میں متعدد شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔گزشتہ پانچ سال کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں تسلسل اور شدت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ 2020 میں دہشت گردی کے نتیجے میں 216 ہلاکتیں ہوئیں جن میں 61 شہری، 57 سیکیورٹی اہلکار اور 98 دہشت گرد شامل تھے۔ 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر 300 ہو گئی جس میں 71 شہری، 108 اہلکار اور 121 دہشت گرد مارے گئے۔ 2022 میں دہشت گردی کی لہر مزید شدید ہوئی اور 527 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں،جن میں 119 شہری، 173 اہلکار اور 235 دہشت گرد شامل تھے۔ 2023 میں صوبے میں 563 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے،پولیس پر سب سے زیادہ 243 حملے ہوئے اور مجموعی طور پر 837 دہشت گرد گرفتار کیے گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر اور پشاور سب سے زیادہ متاثرہ علاقے رہے۔سال 2024 صوبے کے لیے سب سے خونریز سال ثابت ہوا۔ اس دوران 670 واقعات رپورٹ ہوئے، 212 دہشت گرد مارے گئے، 204 سیکیورٹی اہلکار اور 174 شہری شہید ہوئے۔ مختلف پرتشدد واقعات میں مجموعی طور پر 1363 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ 2025 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں دہشت گردی کے 766 واقعات ہو چکے ہیں،جن میں 293 دہشت گرد مارے گئے اور 878 کو گرفتار کیا گیا، جبکہ شہری و اہلکاروں کی شہادتیں سیکورٹی چیلنجز کی شدت کو واضح کر رہی ہیں۔سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردی میں اس اضافے کی بڑی وجوہات افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، سرحدی چیلنجز اور مختلف کالعدم گروہوں کی دوبارہ منظم ہونے کی کوششیں ہیں۔ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں، تاہم ہلاکتوں کی بلند شرح ظاہر کرتی ہے کہ صوبے کو اب بھی بڑے پیمانے پر خطرات لاحق ہیں اور ایک مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔
گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات،کتنے افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے؟جہنم واصل اور گرفتار دہشت گردوں بارے بھی تہلکہ خیز رپورٹ آ گئی
5