لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کے مقدمے سے جڑے جوڈیشل مجسٹریٹ کو مبینہ دھمکیوں کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سیشن عدالت نے ایس ایچ او ڈیفنس سی فرہاد کی عبوری ضمانت عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی۔عدالت نے ملزم کی عدم حاضری پر کارروائی کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جبکہ مقدمے کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور کی سیشن عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں ایس ایچ او ڈیفنس سی فرہاد کی عبوری ضمانت عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی۔ایڈیشنل اینڈ سیشن جج عبد القدوس نے مقدمے میں دائر عبوری درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔عدالت نے قبل ازیں ایس ایچ او فرہاد کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں مقررہ تاریخ پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم وہ عدالتی حکم کے باوجود سماعت کے دوران پیش نہ ہوئے۔عدالت نے ملزم کی عدم حاضری پر کارروائی کرتے ہوئے عبوری ضمانت خارج کر دی،جس کے بعد مقدمے میں قانونی کارروائی مزید آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو گئی۔پولیس کے مطابق ایس ایچ او ڈیفنس سی فرہاد کے خلاف تھانہ مصطفی آباد میں مقدمہ درج ہے،جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ رات کے وقت جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر داخل ہوئے، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دیں۔مقدمہ دو غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کے معاملے سے متعلق عدالتی کارروائی کے پس منظر میں درج کیا گیا تاہم الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی کارروائی اور شواہد کے جائزے کے بعد ہی ہو سکے گی۔عدالت کے فیصلے کے بعد پولیس اور تفتیشی اداروں کی جانب سے مقدمے کی مزید کارروائی جاری ہے جبکہ متعلقہ فریقین کو قانونی مراحل کا سامنا کرنا ہو گا۔
دو غیر ملکی خواتین کیس سے جڑا معاملہ،جوڈیشل مجسٹریٹ دھمکی کیس میں ایس ایچ او فرہاد کی عبوری ضمانت عدم پیروی پر خارج
9