Home » پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر امامِ حرمین شریفین شیخ سدیس کا اہم پیغام،علامہ طاہر اشرفی نے پاکستانیوں کے جذبات بھی امام حرم تک پہنچا دیئے

پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر امامِ حرمین شریفین شیخ سدیس کا اہم پیغام،علامہ طاہر اشرفی نے پاکستانیوں کے جذبات بھی امام حرم تک پہنچا دیئے

by ahmedportugal
22 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے پر عالمِ اسلام میں مثبت ردِعمل کا سلسلہ جاری ہے،امامِ حرمین شریفین شیخ عبدالرحمان السدیس نے معاہدے کو امتِ مسلمہ کی وحدت،سلامتی اور استحکام کے لیے خیر کا باعث قرار دیا ہے۔پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران شیخ سدیس نے معاہدے اور خطے کی صورتحال پر اظہارِ خیال کیا جبکہ طاہر اشرفی نے پاکستانی قوم کے جذبات،حرمین شریفین سے گہری عقیدت اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا پیغام بھی امامِ حرمین تک پہنچایا۔
ایگزو نیوز کے مطابق مکہ مکرمہ میں پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے پر امامِ حرمین شریفین شیخ عبدالرحمان السدیس نے اسے امتِ مسلمہ کی وحدت،سلامتی اور استحکام کے لیے خیر کا باعث قرار دیا ہے۔انہوں نے پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران مسلم دنیا کی صورتحال اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔شیخ عبدالرحمان السدیس اور علامہ حافظ طاہر اشرفی کے درمیان گفتگو میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر خصوصی طور پر بات ہوئی۔امامِ حرمین شریفین نے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کے اقدامات کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ عالمِ اسلام کی اجتماعی سلامتی اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تینوں ممالک کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

علامہ طاہر اشرفی نے حرمین شریفین کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کے دل سعودی عرب اور حرمین شریفین کے ساتھ گہری عقیدت اور محبت سے جڑے ہوئے ہیں اور پاکستان ان کی سلامتی و استحکام کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ٹیلی فونک گفتگو کے دوران شیخ عبدالرحمان السدیس نے حافظ طاہر اشرفی کو تمغہ امتیاز کے لیے نامزد کیے جانے پر مبارکباد بھی پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستانی عوام کے لیے بھی خیر و عافیت اور سلامتی کی دعائیں کیں۔دونوں رہنماوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد،باہمی تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان کے مطابق اجتماعی کوششوں کے ذریعے امتِ مسلمہ کو درپیش سیکیورٹی اور سیاسی چیلنجز کا زیادہ موثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے اور اجتماعی دفاعی ردعمل کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے تاہم پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کی سیاسی و عسکری رابطہ کاری،دفاعی تعاون کے فروغ اور مشترکہ سرگرمیوں کے لیے مربوط طریقہ کار وضع کرنے کی بات کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس میں بری،بحری،فضائی اور سائبر شعبوں میں مشترکہ مشقوں کے ساتھ بغیر پائلٹ نظام،الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید دفاعی شعبوں میں تعاون پر بھی زور دیا گیا ہے۔معاہدے میں دفاعی صنعت کے شعبے میں مشترکہ ترقی،پیداوار، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات بھی شامل ہیں۔تینوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے تعاون کو موجودہ دفاعی شراکت داریوں کے متبادل کے بجائے علاقائی سلامتی کے لیے اضافی فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مذاکرات اور معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل پیچیدہ ہے۔اسی تناظر میں تینوں ممالک نے باہمی دفاع،سیاسی مشاورت اور فوجی تعاون کو مزید منظم کرنے کی سمت قدم بڑھایا ہے۔شیخ عبدالرحمان السدیس اور حافظ طاہر اشرفی کی گفتگو میں اسی وسیع تر علاقائی تناظر میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور مشترکہ سلامتی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔دونوں شخصیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم دنیا کے اجتماعی مفادات،امن اور استحکام کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔یوں مکہ مکرمہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو مذہبی و سیاسی حلقوں میں امتِ مسلمہ کے اتحاد اور علاقائی سلامتی کے نئے فریم ورک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جبکہ اس کے عملی اثرات کا انحصار آئندہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطہ کاری،مشترکہ مشقوں اور معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر ہوگا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز